خیبر پختونخوا: صوبائی مشیر نے پانی و صفائی کمپنیوں کو ملازمین کو کم از کم اجرت ادا کرنے کی ہدایت کر دی

خیبر پختونخوا کے مشیرِ مالیات مزمل اسلم نے صوبے کی سات واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کو ہدایت کی کہ تمام ملازمین کو اعلان شدہ کم از کم اجرت دی جائے؛ اضافی فنڈز محکمہ خزانہ مہیا کرے گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے مالیات مزمل اسلم نے صوبے میں کام کرنے والی 7 واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومت کے اعلان کردہ کم از کم اجرت تمام ملازمین کو فوری طور پر ادا کریں، اور اضافی فنڈز محکمہ خزانہ فراہم کرے گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے مالیات مزمل اسلم نے جمعہ کو محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں کام کرنے والی 7 واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ عارضی ملازمین سمیت تمام عملے کو صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرت ہر صورت ادا کریں۔

اجلاس میں کمپنیوں کے انتظامی اور مالی امور، اخراجات میں کمی، ملازمین کی اجرتیں، آڈٹ رپورٹس، بلنگ سسٹمز اور نکاسی و سیوریج کے شعبے سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اجرتوں میں اضافے کے بعد درکار اضافی فنڈز محکمہ خزانہ فراہم کرے گا، مگر کمپنیوں کو اخراجات کنٹرول کرنے اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی سخت ہدایت بھی دی گئی۔

مشیر نے کوہاٹ اور سوات کی کمپنیوں کو غیر ضروری اخراجات فوری طور پر کم کرنے کے اقدامات اٹھانے کا حکم دیا اور پشاور کمپنی کی جانب سے اخراجات میں کنٹرول کی کوششوں کی تعریف کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تجارتی سرگرمیوں کے لئے علیحدہ بلنگ سروسز متعارف کروائی جائیں گی اور تمام کمپنیوں کے بلنگ سسٹمز فوری طور پر آن لائن منتقل کیے جائیں گے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ آن لائن بلنگ شفافیت اور کارکردگی بہتر کرے گی اور عملے اور کاغذی کام پر ہونے والے اخراجات کم کرے گی۔ علاوہ ازیں، انہوں نے نکاسی نظام پر قابض مقامات کے خلاف کارروائی کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور تحصیل میونسپل افسران کے ساتھ مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری علاقوں میں نکاسی کے نظام کو فعال رکھا جا سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516