کوہاٹ (کرائم رپورٹر) کوہاٹ میں پرانے پولیس لائن کے ساتھ واقع مسجد میں جمعے کی نماز کے دوران ہونے والے دھماکے میں 21 نمازی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے، پولیس حکام کے مطابق حملہ کرنے والے کم از کم سات مسلح دہشت گرد تھے جنہوں نے پہلے گاڑی ٹکرا کر دھماکہ کیا اور پھر مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے مطابق شہید ہونے والوں میں ایس پی ٹریفک پولیس اکبر شنواری بھی شامل تھے جبکہ زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ پہلے پولیس لائن کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی اور اُس کے بعد مسلح دہشت گردوں نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر اُن کے اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
سات مسلح دہشت گرد پولیس لائن میں داخل ہوئے جن کا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اُن کا بھرپور مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں خودکش بمبار سمیت چھ دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا ہدف مسجد تھی اِسی وجہ سے نمازِ جمعہ کے دوران حملہ شروع کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں مسجد کی بیرونی دیوار اور قریبی عمارات کو بھی نقصان پہنچا۔
صدرِ اور وزیرِاعظم نے واقعے کی مذمت کی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ صوبائی حکام نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔




