ڈیانا کی موت پر چارلس اِتنے خوش تھے کہ جیسے اُن کی لاٹری نکل آئی ہو، ارل سپینسر کا دعویٰ

ارل سپینسر نے اپنی نئی یادداشتوں میں دعویٰ کیا ہے کہ 1997 میں ڈیانا کی موت کے بعد چارلس ’حد درجہ خوش‘ محسوس ہو رہے تھے؛ بکنگھم پیلس نے ان اقتباسات پر اعتراض کیا ہے۔

لندن (بیورو رپورٹ) ویلز کی شہزادی ڈیانا کے بھائی اَرل سپینسر نے اپنی نئی کتاب کے اقتباسات میں دعویٰ کیا ہے کہ 1997ء میں ڈیانا کی موت کی خبر سن کر اُسوقت کے پرنس چارلس بہت زیادہ خوش تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اُن کی کوئی لاٹری نکل آئی ہو تاہم بکنگھم پیلس نے اِس کتاب کی ساکھ پر سخت اعتراض اُٹھا دیا ہے۔

ارل سپینسر کی تازہ یادداشتوں کے اقتباسات میں سامنے آنے والے دعوے نے شاہی خاندان کے لیے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ اَرل سپینسر نے لکھا ہے کہ 31 اگست 1997ء کی رات جب اُنہیں اپنی بہن کی موت کی اطلاع ملی اور بعد ازاں فون کالوں کے دوران چارلس نے رابطہ کیا تو وہ ’’حد درجہ خوش‘‘ تھے۔ اَرل سپینسر نے اِس کیفیت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اُسوقت ایسا لگا کہ چارلس لاٹری جیت گیا ہو۔

کتاب کے ایک حصے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ چارلس نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی اُسے بھول جائیں گے۔ اَرل سپینسر کے مطابق وہ اپنی یادداشتوں کی بنیاد پر 30 برس پرانے واقعات سُنا رہے ہیں جو اُن کے بقول حساس اور جذباتی دنوں میں ہونے والی بات چیت پر مشتمل ہیں۔

یادداشتوں کے اقتباسات ڈیلی میل میں شائع ہوئے ہیں۔ کتاب ’’سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘‘ آئندہ ہفتے شائع ہو گی اور بی بی سی نیوز نے اس کی مکمل کاپی اب تک نہیں دیکھی۔

بکنگھم پیلس نے اِن اقتباسات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام طور پر وہ کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتے تاہم شاہ چارلس اِس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ کسی عزیز کے جنازے کا غم انسان کی یادداشت اور فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے اور صدمے کے برسوں بعد واقعات مختلف انداز میں ذہن میں نقش رہ سکتے ہیں۔

پرنس ہیری کے نمائندے نے کہا کہ وہ اِس کتاب پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ملکہ الزبتھ دوم کے سابق پریس سیکریٹری ڈکی آربیٹر نے اَرل سپینسر کے تازہ دعووں کو ’’بکواس‘‘ قرار دیا اور کہا کہ چارلس اُسوقت شدید صدمے میں تھے اور اِن الزامات کی اُن کی شخصیت کے مطابق کوئی گنجائش نہیں۔

شاہی تنازعے کے بیچ، ڈیوک آف سسیکس پرنس ہیری ایک عوامی تقریب میں شریک رہے جب کہ اُن کی اہلیہ ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل اُس میں نہیں آئیں۔ شاہی خاندان کے دیگر سینئر ارکان بھی اپنی عوامی مصروفیات میں مصروف رہے۔

اس واقعے کا اثر عام رائے عامہ اور شاہی وقار پر کیسا پڑے گا، اِس کا دارومدار آئندہ شائع ہونے والی مکمل کتاب اور عوامی ردِعمل پر ہو گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1553