خیبر پختونخوا میں نابالغ شادیاں جرم قرار دینے کی قانون سازی متوقع

خیبر پختونخوا حکومت Khyber Pakhtunkhwa Child Marriage Restraint Bill 2019 کابینہ منظوریاں کے بعد اسمبلی میں پیش کرے گی، اعلان طفیل انجم نے پشاور میں UNFPA اجلاس میں کیا۔

19 اگست 2026 کو جاری معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں بچوں کی شادیاں روکنے کے لیے Khyber Pakhtunkhwa Child Marriage Restraint Bill 2019 کو کابینہ کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، یہ اعلان اسپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر برائے پاپولیشن ویلفیئر طفیل انجم نے پشاور میں UNFPA کے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔

خیبر پختونخوا حکومت چند سال سے زیر التواء رہنے والے Khyber Pakhtunkhwa Child Marriage Restraint Bill 2019 کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ یہ بل کابینہ سے منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اس بات کا اعلان اسپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر برائے پاپولیشن ویلفیئر طفیل انجم (Tufail Anjum) نے پشاور میں اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کی طرف سے منعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کے دوران کیا۔

طفیل انجم نے کہا کہ قانون کے موثر نفاذ کے لیے ضروری اقدامات بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ انھوں نے اجلاس میں کہا: “Child marriage is an important social issue, and the government is taking effective measures to address it with the cooperation of all relevant institutions,”۔ انجم کے بقول حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس سماجی مسئلے سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

حکومت کے مطابق صوبے میں ابھی بھی بچوں کی شادیاں کافی تعداد میں رپورٹ ہوتی ہیں مگر اس موضوع پر مؤثر طور پر قابو پانے کے لیے مخصوص صوبائی قانون ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا۔ بل 2019 میں تیار کیا گیا تھا مگر چند سال سے التوا کا شکار رہا۔

مذکورہ اقدام کی ضرورت کو تقویت Adolescent Sexual and Reproductive Health Project کے نتائج بھی دیتے ہیں، جو 2021 میں صوبے کے 38 اضلاع میں سے 10 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق نابالغ دلہنوں کو نفسیاتی صدمے اور تولیدی صحت مسائل کی شرح اُن خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے جو 20 سال یا اس سے بعد میں شادی کرتی ہیں۔ رپورٹ میں عام مسائل کے طور پر ڈپریشن، شادی میں ایڈجسٹ کرنے میں دشواری، بے چینی، حمل ضائع ہونا (miscarriages)، صحتِ عامہ میں کمی، طبی پیچیدگیاں اور آئرن کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تا کہ نابالغ شادیاں کم ہوں اور متاثرہ لڑکیوں کی صحت اور فلاح و بہبود بہتر بنائی جا سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515