وزیرِ اعلیٰ وزیراعلیٰ محمد سہیل افریدی نے 57ویں صوبائی کابینہ اجلاس میں اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا میں جلد خواتین کے لیے برقی موٹر سائیکل اسکیم شروع کی جائے گی؛ کالج اور یونیورسٹی کی طالبات اور ملازمت کرنے والی خواتین اہل قرار پائیں گی، بائیک کی فراہمی سخت میرٹ کی بنیاد پر ہوگی۔
پشاور — خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین کو ٹرانسپورٹ کے متبادل فراہم کرنے اور صوبے میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے کے مقصد سے ایک برقی موٹر سائیکل اسکیم کی جلدی شروعات کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ محمد سہیل افریدی نے یہ اعلان صوبائی کابینہ کے 57ویں اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اُن کے بقول کالج اور یونیورسٹی کی طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین اس اسکیم کے اہل ہوں گی اور بائیکس کی تقسیم سخت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی۔
رپورٹ میں اسکیم کے پہلے مرحلے کے جلد آغاز کا ذکر ہے، مگر کتنی موٹر سائیکلیں فراہم کی جائیں گی، اہل ہونے کے معیار، درخواست دہندگان کے لیے طریقہ کار یا حتمی آغاز تاریخ کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس برقی موٹر سائیکل منصوبے کے بعد صوبے میں برقی رکشہ اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی، جسے ماحول دوست اور صاف ستھری ٹرانسپورٹ کے فروغ کے اہم اقدامات قرار دیا گیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے لیے برقی بس منصوبے پر کام تیز کیا جائے تاکہ بڑے شہروں میں بھی برقی ٹرانسپورٹ کے متبادل دستیاب ہوں۔
حکومت کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف خواتین کے لیے نقل و حمل کے اضافی امکانات فراہم کریں گے بلکہ صوبے میں کلینر اور گرینر ماحولیاتی پالیسی کی طرف بھی ایک قدم ہیں۔
مزید تفصیلات، اہل وثائق اور درخواست کے طریقہ کار کی بابت حکومتی اعلامیے یا متعلقہ محکمہ کی جانب سے بعد میں آگاہی جاری کی جائے گی۔




