خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پشاور کے لیے ایک اسکیم کی اصولی منظوری دے دی جس کے تحت پہلے مرحلے میں خواتین طلبہ اور ملازمت پیشہ خواتین کو کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے مفت برقی سکوٹر دیے جائیں گے، اور صوبائی حکومت نے فوری تقسیم، مکمل مالی اعانت اور نگرانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ پشاور میں خواتین طلبہ اور مزدور خواتین کو مفت برقی سکوٹر فراہم کرنے کے پروگرام کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ آفریدی نے اجلاس کی صدارت کے دوران منصوبے کی اصولی منظوری دے دی اور اس کے لیے پوری مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
سرکاری عہدہ داران نے بتایا کہ مستحق خواتین کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ وزیرِاعلیٰ نے منصوبے کی نگرانی کے لیے فوری نوٹیفائی کی جانے والی اسٹیئرنگ کمیٹی، تکنیکی ورکنگ گروپ اور شکایات کے ازالے کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ یہ اسکیم بعد ازاں صوبے کے دیگر اضلاع تک پھیلے گی، جس کے لیے منصوبہ بندی اور لاجسٹک تیاری جاری رکھی جائے گی۔ آفریدی نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کو تعلیم اور روزگار تک محفوظ اور آسان رسائی دینے کے ساتھ ان کی معاشی خودمختاری کو بھی فروغ دے گا۔
وزیرِاعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برقی سکوٹرز کے استعمال سے فضائی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ یہ گاڑیوں کے روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کریں گے۔
حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں سکوٹر ماڈل، تعداد یا بجٹ کا تذکرہ موجود نہیں تھا؛ عہدہ داران نے کہا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ جلد ان پہلوؤں کی کارروائی کرے گا اور تقسیم کے شیڈول اور اہلیت کے معیار عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ اور شہری نقل و حمل کے بہبود کے حوالے سے خواتین کی رسائی ایک اہم پالیسی معاملہ بن چکا ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی توجہ پشاور کی خواتین پر مرکوز رہے گی مگر منصوبہ صوبے بھر میں وسعت اختیار کر سکتا ہے۔




