اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سہولت کاری میں مین لائن-1 (ایم ایل-1) کی اپ گریڈیشن متوقع ہے کہ کراچی اور پشاور کے درمیان ریل سفر کا وقت موجودہ 70–90 گھنٹوں سے گھٹا کر 25–30 گھنٹوں تک لے آئے، جس سے قومی رابطہ، لاجسٹکس اور مال کی نقل و حمل میں نمایاں بہتری آئے گی۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق مین لائن-1 (ایم ایل-1) کی جدید کاری سے پاکستان کی شمالی اور جنوبی بندرگاہی و صنعتی مراکز کے درمیان ریلوے ٹرانزٹ کا وقت ڈرامائی طور پر کم ہو جائے گا۔ اس منصوبے کی سہولت کاری اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کر رہی ہے اور اسے قومی لاجسٹکس نیٹ ورک کو تیز، مؤثر اور مربوط بنانے کی ایک کلیدی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے ذریعے ریل کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور وقف شدہ فریٹ کارِڈور قائم کرنے کی راہ ہموار ہو گی، جس سے زیادہ مال ریلوے کے ذریعے منتقل ہو سکے گا اور شاہراہوں پر دباؤ کم ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم ایل-1 کی جدید کاری ایم ایل-2 اور ایم ایل-3 کی تجارتی سالمیت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دے گی، اور اٹک، کوئٹہ، تفتان اور معدنی پیداوار والے علاقوں کے ساتھ بہتر فریٹ رابطے قائم ہوں گے۔
یہ بہتر رابطہ صنعتی اور معدنی اجناس کی نقل و حمل کو آسان اور مؤثر بنا سکتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور پورٹس کے ذریعے برآمدات و ترسیلات پر مثبت اثرات متوقع ہیں۔ ماہرین عام طور پر ریل پر مال برداری بڑھانے کو لاگت، وقت اور روڈ انفراسٹرکچر کے دباؤ میں کمی کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا فائدہ ملک گیر سپلائی چین اور لاجسٹک سیکٹر کو پہنچے گا۔
رپورٹ میں کسی حتمی منصوبہ جاتی تاریخ یا لاگت کا تذکرہ نہیں کیا گیا، مگر ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن کو قومی سطح پر جوڑتوڑ کے ایک بڑے قدم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں اگر پیشن گوئی کے مطابق سفر کے اوقات اتنے کم ہو گئے تو مسافر اور تجارتی ٹرانزٹ دونوں میں نمایاں اصلاحات آئیں گی، جبکہ شاہراہوں پر حادثات اور ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آسکتی ہے۔
حکام نے منصوبے کو دنیاوی معیارات کے مطابق ایک مربوط لاجسٹکس نیٹ ورک کی جانب کلیدی قدم قرار دیا ہے، مگر تفصیلی ٹائم لائن، فنڈنگ میکانزم اور لاگت کے بارے میں مزید سرکاری اعلانات کا انتظار باقی ہے۔




