پنجاب حکومت نے لاہور کے مصروف علاقے داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان 22 کنال زمین پر تین سطحی زیرِ زمین پارکنگ پلازہ بنانے کی تجویز وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے لیے پیش کر دی ہے، جس کا مقصد طویل عرصے سے جاری پارکنگ کا مسئلہ حل کرنا بتایا گیا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے لاہور کے تاریخی مرکز میں واقع داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے درمیان ایک زیرِ زمین پارکنگ پلازہ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ مقامی رہائشیوں، تاجروں اور زائرین کے پارکنگ مسائل حل کیے جا سکیں۔ یہ منصوبہ 22 کنال اراضی پر نافذ کیا جائے گا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کی منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (ٹی ای پی اے) نے ابتدائی اندازوں کے مطابق اس منصوبے کی لاگت 8.225 ارب روپے سے زائد بتائی ہے۔ ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے درخواست کی ہے کہ موجودہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں اس منصوبے کو شامل کر کے اس کی تعمیر کے لیے فنڈ مختص کیے جائیں۔ منصوبہ متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد عملی شکل اختیار کرے گا۔
تجویز کردہ پلازہ تین زیرِ زمین سطحوں پر مشتمل ہوگا اور اس میں ذہین نقل و حمل نظام (آئی ٹی ایس)، خودکار پارکنگ سہولیات اور برقی گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشن بھی ہوں گے۔ پلان کے مطابق یہ پارکنگ تقریباً 600 گاڑیوں اور 1,700 موٹر سائیکلوں کی گنجائش فراہم کرے گی۔ اس کے ذریعے داتا دربار کے زائرین کے علاوہ اطراف کے رہائشی اور کاروباری مراکز بھی مستفید ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ بھاٹی انڈرپاس اورداتا دربار اپ گریڈ منصوبوں کے تعاقب میں پیش کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت تعمیراتی کام ایل ڈی اے انجینئرنگ ونگ کے بجائے ممکنہ طور پر ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی کو سونپنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ اور فنڈنگ متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد سامنے آئے گی۔
محکمہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ زیرِ زمین پارکنگ کی دستیابی سے نہ صرف سڑکوں پر پارکنگ کا انتظام بہتر ہوگا بلکہ ٹریفک کے بہاؤ میں بھی واضح بہتری آئے گی، بشرطیکہ منصوبہ بروقت اور معیاری بنیادوں پر عمل میں لایا جائے۔




