حکومت نے لیسکو، میپکو، لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھایا

پرائیویٹائزیشن کمیشن کے 257ویں اجلاس میں 11 اگست کو LESCO اور MEPCO کی نجکاری آگے بڑھانے اور لاہور و کراچی ائیرپورٹس کی آپریشنز آؤٹ سورسنگ کے لیے EY Parthenon لیڈ کنسورشیم کو ٹاپ رینکڈ قرار دیا گیا۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن کے 257ویں اجلاس میں 11 اگست کو فیصلہ کیا گیا کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (MEPCO) کو نجی شعبے کے لیے پیش کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ، لاہور اور جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ، کراچی کی آپریشنز آؤٹ سورس کرنے کے لیے مالیاتی مشاورتی خدمات کی منظوری کے لیے EY Parthenon کی قیادت میں کنسورشیم کو ٹاپ رینکڈ بڈر تسلیم کیا گیا۔

اسلام آباد — پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے 11 اگست کو اپنے 257ویں اجلاس میں بڑے پیمانے پر نجکاری اقدامات کی منظوری دے دی، جن میں LESCO اور MEPCO کی نجکاری کے عمل کو رسمی طور پر آگے بڑھانا اور لاہور و کراچی ائیرپورٹس کی آپریشنز آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشاورتی خدمات کے انتظامات شامل ہیں۔

بورڈ نے EY Parthenon لیڈ کنسورشیم کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ، لاہور اور جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ، کراچی کے آپریشنز آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشاورتی خدمات کے حوالے سے ٹاپ رینکڈ بڈر قرار دیا۔ ساتھ ہی بورڈ نے منتخب کنسورشیم کے ساتھ Financial Advisory Services Agreement کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی۔

بورڈ نے بتایا کہ LESCO اور MEPCO دونوں ٹرانزیکشنز کو ‘بڑے نجکاری معاہدے’ قرار دے دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان دونوں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے لیے مالیاتی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کیا جائے گا۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن اب مالیاتی مشیروں کے انتخاب کے مراحل کا آغاز کرے گا۔

حکومت نے LESCO اور MEPCO کو نجکاری کے لیے چوتھے بیچ میں شامل کیا ہے؛ اس سے قبل تین بیچز کے نجکاری عمل پہلے ہی جاری ہیں۔ بورڈ نے کہا کہ یہ فیصلے حکومت کے وسیع تر نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں اور یہ عمل شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے تحت انجام دیا جائے گا، جس کا مقصد حکومت اور عوام کے لیے قدر کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا اور جوابدہی کو برقرار رکھنا ہے۔

یہ فیصلے محمد علی کی زیرِ صدارت پرائیویٹائزیشن کے مشیر برائے وزیرِ اعظم اور پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین کے تحت کیے گئے۔ اعلان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام مراحل میں شفافیت، مسابقت اور سرکاری مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن کی یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سرکاری اثاثوں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کی بحث ملک بھر میں جاری ہے اور بجلی کی تقسیم کمپنیوں کے نجکاری شیڈول پر سابقہ بیچز کے عمل کا اثر بھی زیرِ غور ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2911