سندھ پبلک سروس کمیشن کی بھرتیوں میں مصنوعی ذہانت متعارف کروانے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے بھرتی و امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت متعارف کروانے کا فیصلہ کیا، جس میں سوالنامہ سازی، جانچ اور ڈیٹا مینجمنٹ شامل ہیں۔

سندھ حکومت نے 11 اگست 2026 کو فیصلہ کیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے بھرتی اور امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) متعارف کروائی جائے گی۔ یہ فیصلہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کی، اور ٹیکنالوجی کا مقصد امتحانات کو مؤثر بنانا اور غیر ضروری انسانی مداخلت کم کرنا بتایا گیا۔

سندھ کے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی حکومت نے پبلک سروس کمیشن کے بھرتی و امتحانی عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی منظوری دے دی۔ حکومت کے مطابق AI کا اطلاق سوالنامے کی تیاری، جانچ اور امتحانی ڈیٹا کے انتظام میں کیا جائے گا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے امتحانی عمل کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے گی اور غیر ضروری انسانی مداخلت کو کم کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ اس کا مقصد عمل کو تیز، شفاف اور بہتر منظم بنانا ہے۔

مزید برآں، صوبہ بھر میں امیدواروں کے لیے جدید امتحانی سہولتوں سے مزین ٹیکنالوجی ورک اسٹیشن قائم کیے جائیں گے تاکہ امیدوار جدید ساز و سامان تک رسائی حاصل کر سکیں۔

چیف سیکریٹری کے بقول آئندہ مرحلوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال پبلک سروس کمیشن تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی بورڈز، دیگر امتحانی انتظامات اور بھرتی کے عمل میں بھی بڑھایا جائے گا۔

سرکاری نوٹس یا اجلاس کا تفصیلی شیڈول اور نفاذ کا مرحلہ وار پلان مضمون میں درج نہیں کیا گیا، تاہم حکومت نے صوبے میں جدید ٹیکنالوجیز کے نفاذ کی خاطر توسیعی لائحہ عمل کی عکاسی کی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519