غزہ کی تباہی کے سائے میں مراکش کا احتجاج: فلسطین کے دکھ اور اسرائیل سے بڑھتے تعلقات کے درمیان عوامی کشمکش
عالمی خبر رساں ادارے-مراکش میں حالیہ ملک گیر احتجاج نے فلسطین کے مسئلے کو ایک بار پھر عرب دنیا کی عوامی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تین روزہ احتجاجی مہم میں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کے خاتمے، فلسطین کے لیے زیادہ مضبوط حمایت اور غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرے ایسے وقت ہوئے جب رباط اور تل ابیب نے اپنے سفارتی تعلقات کو مکمل سفارت خانوں کی سطح تک بڑھانے اور سفیروں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔
اس تنازعے کو صرف مراکش اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات تک محدود دیکھنا فلسطینی المیے کی گہرائی کو کم کردے گا۔ غزہ میں طویل جنگ، بڑے پیمانے پر تباہی، بے گھری اور انسانی بحران نے دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں عوامی احتجاج کو جنم دیا ہے۔ مراکش میں بھی مظاہرین کا مؤقف ہے کہ سفارتی معاہدے اور معاشی روابط اسرائیلی قبضے اور فلسطینیوں کی مشکلات کو معمول کا حصہ نہیں بنانا چاہییں۔
تاریخی پس منظر
مراکش نے دسمبر 2020 میں امریکی ثالثی میں ابراہم معاہدوں کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے۔ اس کے بعد رباط اور تل ابیب میں رابطہ دفاتر قائم ہوئے۔ اب انہیں مکمل سفارت خانوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ تعلقات کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
لیکن فلسطین کے حوالے سے مراکش کی داخلی سیاست میں ایک واضح تضاد بھی دکھائی دیتا ہے: ریاستی سطح پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں اضافہ، جبکہ سڑکوں پر فلسطین کے لیے مضبوط عوامی حمایت۔ تازہ رپورٹس کے مطابق 45 شہروں میں 76 سرگرمیاں منعقد ہوئیں، جبکہ رباط اور طنجہ میں نمایاں مظاہرے ہوئے۔
طنجہ میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کی گرفتاری کے واقعے نے احتجاج کے انسانی حقوق کے پہلو کو بھی نمایاں کیا؛ تاہم رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے ایک مقامی کارکن کو بعد میں رہا کردیا گیا۔
تازہ ترین صورتِ حال میں مراکش کا سرکاری راستہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید ادارہ جاتی بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ عوامی سطح پر فلسطین کے لیے احتجاج برقرار ہے۔ 16 ستمبر کے سفارتی اعلان کے بعد ہونے والے یہ مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینی المیہ مراکش کے عوامی شعور میں محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ اخلاقی، تاریخی اور سیاسی سوال بھی ہے۔




