متنازع ’’آبشار‘‘ دراصل گندے پانی کا نالہ نکلا

مری کے چٹا مور اور بنسیرہ گلی کے درمیان ایک مقام پر دکھایا جا رہا 'آبشار' دراصل شہر بھر سے آنے والے گندے پانی کا نکاسیاتی ڈرین نکلا، مقامی افراد ضلعی انتظامیہ سے بندش کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مری راولپنڈی جی ٹی روڈ کے درمیانی حصے میں چٹا مور اور بنسیرہ گلی کے درمیان ایک جگہ جہاں سیاحوں کو آبشار دکھائی جا رہی تھی، وہ دراصل شہر بھر سے آنے والا گندہ نکاسیاتی پانی نکالنے والا ڈرین تھا۔ مقامی لوگوں اور سیاحوں نے ضلعی انتظامیہ سے اس مقام کو بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مری کے مرکزی راستے مورّی راولپنڈی جی ٹی روڈ پر چٹا مور اور بنسیرہ گلی کے درمیان موجود ایک مصنوعی سیاحتی مقام، جو سیاحوں کو ‘آبشار’ کے طور پر دکھایا جا رہا تھا، دراصل گندے پانی کے ایک نکاسیاتی ڈرین پر مبنی ہے۔

اس مقام پر روزانہ بڑی تعداد میں سیاح پہنچتے ہیں۔ زیادہ تر زائرین کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہاں بہنے والا پانی سیوریج کا پانی ہے، کئی لوگ وہاں تصویریں اور ویڈیوز بناتے ہیں اور بعض افراد براہ راست گندے پانی میں داخل بھی ہو جاتے ہیں۔

مقامی باشندوں نے بتایا کہ کچھ کیمرہ مین اور ٹیکسی آپریٹر اِس مقام پر سیاحوں کو لے جا کر اِسے سیاحتی کشش کے طور پر فروغ دیتے ہیں اور اِس سے پیسے کماتے ہیں۔ متاثرہ رہائشی اور آنے والے سیاح دونوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اِس مصنوعی پکنک پوائنٹ کو بند کر کے لوگوں کو آلودہ پانی کے نقصان سے بچائے۔

صفائی، صحت اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515