فلسطینی رہنما مصطفیٰ برغوثی کی اسرائیل کو اسلحہ فراہمی پر تنقید، امریکا پر بھی سوالات
فلسطینی سیاست دان اور فلسطینی قومی اقدام کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ برغوثی نے الجزیرہ کے پروگرام دی باٹم لائن میں اسرائیل کو غیر ملکی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت تنقید کی۔ برغوثی کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا تسلسل بیرونی اسلحہ، دفاعی سازوسامان اور سفارتی حمایت کے بغیر برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے خصوصاً امریکا سمیت ان ممالک پر سوال اٹھایا جو اسرائیل کو دفاعی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
اس معاملے کا تاریخی پس منظر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں نمایاں طور پر بڑھا اور بعد میں باقاعدہ فوجی امدادی پروگراموں میں تبدیل ہوا۔ 2016 کے امریکی-اسرائیلی مفاہمتی یادداشت کے تحت 2019 سے 2028 تک امریکا اسرائیل کو سالانہ 3.3 ارب ڈالر کی غیر ملکی عسکری مالی معاونت اور میزائل دفاع کے لیے اضافی 500 ملین ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کرچکا ہے۔
تازہ (ایس آئی پی آر آئی) اعدادوشمار کے مطابق 2021–25 میں اسرائیل کی بڑی اسلحہ درآمدات کا 68 فیصد امریکا اور 31 فیصد جرمنی سے آیا۔ ان درآمدات میں جنگی طیارے، بکتر بند گاڑیاں، گائیڈڈ بم اور میزائل شامل ہیں۔ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران بھی اسرائیل کو اہم ہتھیاروں کی فراہمی جاری رہی۔
برغوثی نے بھارت کا بھی ذکر کیا، تاہم یہاں اعدادوشمار کی درست وضاحت ضروری ہے۔ دستیاب (ایس آئی پی آر آئی) ڈیٹا بھارت کو اسرائیل کا بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کرنے والا قرار نہیں دیتا۔ اس لیے بھارت کے حوالے سے ان کا دعویٰ ممکنہ طور پر فوجی ٹیکنالوجی، اجزا، تعاون یا وسیع دفاعی تجارت سے متعلق ہے، جسے اسرائیل کی مجموعی بڑی اسلحہ درآمدات کے اعدادوشمار سے الگ سمجھنا چاہیے۔ (ایس آئی پی آر آئی) کے 2020–24 تجزیے میں اسرائیل کے بڑے روایتی ہتھیاروں کے سپلائر میں امریکا، جرمنی اور اٹلی شامل تھے۔
برغوثی نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی فراہمی روکنے اور پابندیوں پر عالمی سطح پر غور کیا جائے۔ دوسری جانب اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک اپنی پالیسیوں کو اسرائیل کی سلامتی، علاقائی خطرات اور دفاعی تعاون کے تناظر میں بیان کرتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ فوجی امداد، بین الاقوامی قانون اور شہریوں کے تحفظ کے درمیان ریاستیں اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح متوازن کرتی ہیں۔




