وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) کے کارڈیک سینٹر کا معائنہ کیا اور دیواروں کی خراب صورتحال دیکھ کر فوری مرمت اور ناکام اہل کاروں کی برطرفی تک رواداری نہ رکھنے کی ہدایت جاری کی۔
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے جمعہ کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) کے کارڈیک سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں الیکٹروفزیالوجی کیتھیٹرائزیشن لیبارٹری سمیت متعدد سہولیات کا معائنہ کیا۔
وزیر نے مریضوں سے براہِ راست بات چیت بھی کی اور نجی کمروں کی خراب حالت دیکھ کر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک خستہ حال دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ عملہ محض پینٹ کیوں کر رہا ہے جبکہ بنیادی مسئلہ کی درست مرمت ضروری ہے۔ وزیر نے متنبہ کیا کہ اس دیوار کے گرنے کا خطرہ موجود ہے اور یہ سنجیدہ حفاظتی خطرہ بن سکتی ہے۔
“آپ کو ہسپتال کی حالت سمجھنے کے لیے 6 مہینے نہیں ملیں گے، لہٰذا کام فوراً شروع کریں،” سید مصطفیٰ کمال نے پِمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان کو ہدایت کی۔ انہوں نے ڈاکٹر سلمان کو ہسپتال میں مرمت کے کام کی روزانہ بنیاد پر نگرانی کرنے کا حکم دیا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جو بھی اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہا تو اسے عہدے سے ہٹایا جائے گا اور بروقت اور باصلاحیت افراد کو غیر موثر اہل کاروں کی جگہ تعینات کیا جائے گا۔ ان ہدایات میں مرمت کے فوری آغاز اور انتظامی احتساب دونوں شامل ہیں۔
وزیر کا دورہ اور ہدایات پِمز میں مریضوں کی حفاظت اور ہسپتال کی بنیادی ڈھانچے کی فوری توجہ کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں، اور اس انتظامی سختی کا اطلاق عمل درآمد کی نگرانی کے ذریعے کم وقت میں دیکھا جانا باقی ہے۔




