بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کریسٹالینا جورجیوا نے کہا ہے کہ اصلاحات نافذ کرنے کے ہمارے طریقے پاکستان جیسے ممالک میں کامیاب رہے ہیں، اور فنڈ اور عالمی بینک مل کر مقامی محصول بڑھانے، سستا نجی سرمایہ کھینچنے اور ذمہ داریوں کے انتظام پر کام کر رہے ہیں۔ یہ بیان جی20 کے مالیاتی وزراء اور مرکزی بینک گورنرز کی کانفرنس میں ایشویل، نارتھ کیرولائنا کے بعد دیا گیا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کریسٹالینا جورجیوا نے کہا ہے کہ فنڈ کے تحت اپنائے گئے اصلاحی طریقے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جی20 کے مالیاتی وزراء اور مرکزی بینک گورنرز کی میٹنگ کے بعد ایشویل، نارتھ کیرولائنا میں کہی۔
گورجیوا نے بتایا کہ غیر پائیدار قرض کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تین بڑے رویے ضروری ہیں۔ پہلے گروپ میں وہ ممالک آتے ہیں جن کے قرض غیر پائیدار ہیں۔ دوسرے گروپ میں وہ ممالک ہیں جن کے قرض عمومی طور پر قابلِ برداشت ہیں اور وہ اقتصادی نمو بڑھانے کے لیے اصلاحات نافذ کر رہے ہیں—اسی حصے میں انہوں نے خاص طور پر پاکستان کا تذکرہ کیا۔ تیسرا گروپ اُن ممالک کا ہے جو مضبوط معاشی بنیادی اصول برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جن میں قرض کی شفافیت، قرض مینجمنٹ صلاحیت میں بہتری اور حکومتوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان مضبوط تعلقات شامل ہیں۔
گورجیوا نے واضح کیا، “عالمی بینک کے ساتھ مل کر ہم نے اصلاحات کے نفاذ اور داخلی وسائل کی فراہمی کی حمایت کو مضبوط کیا ہے،” اور کہا کہ یہ نقطۂ نظر ایک سے زائد ممالک میں مثبت نتائج دے رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک نجی شعبے کی جانب زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور ذمہ داریوں کے انتظامی عمل کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ترقی پذیر معیشتیں بڑھتے ہوئے قرض کے بوجھ اور بلند شرحِ سود کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ گورجیوا کے الفاظ پاکستانی ناظرین کے لیے اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے براہِ راست پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیا جو اصلاحی عمل اپنانے کی وجہ سے بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں۔
ماخذ کے مطابق، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی جانب سے اصلاحات، داخلی محصول میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کے خواہش مند ماحول کے قیام پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم ماخذ نے اس وقت کسی مخصوص نئی مالی مدد یا پروگرام کا اعلان نہیں کیا۔




