کم داخلوں اور خراب نویں جماعت کے نتائج پر پنجاب سینکڑوں اسکولوں کا ہائ اسکول درجہ واپس لینے پر غور کر رہا ہے

محکمہ تعلیم پنجاب نے میٹرک میں داخلہ 20 سے کم اور نویں جماعت کے خراب نتائج رکھنے والے سینکڑوں اسکولوں کا ہائ اسکول درجہ واپس لینے پر غور شروع کر دیا؛ متاثرہ طلبہ قریبی اسکولوں میں منتقل ہوں گے۔

محکمہ تعلیم پنجاب سینکڑوں سرکاری اسکولوں کے ہائ اسکول درجہ کو واپس لے کر انہیں مڈل اسکول بنانے پر غور کر رہا ہے، کیونکہ کئی اسکولوں میں بورڈ کی میٹرک کلاس میں داخلہ 20 سے کم ہے اور نویں جماعت کے نتائج کمزور رہے ہیں؛ متاثرہ میٹرک طلبہ قریبی سکولوں میں منتقل کیے جائیں گے، اور لاہور کے اسکولوں کو کارکردگی کی وضاحت کے لیے بلایا گیا ہے۔

پنجاب کے محکمہ تعلیم نے میٹرک داخلوں اور نویں جماعت کے خراب نتائج کے پیشِ نظر سیکڑوں سرکاری اسکولوں کے ہائ اسکول درجہ کو واپس لینے اور انہیں مڈل سطح پر بحال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ محکمہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ ان اسکولوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں بورڈ کی میٹرک کلاس میں رجسٹرڈ طلبہ کی تعداد 20 سے کم ہے۔

لاہور میں کچھ اسکولوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جہاں میٹرک میں داخلہ انتہائی کم ہے: گورنمنٹ ہائی اسکول سینٹ فرانسس نیو انارکلی میں میٹرک میں داخلہ 10 سے کم ہے، گورنمنٹ پاکستان ماڈل اسکول رحمنپورہ میں 20 سے کم رجسٹرڈ طلبہ ہیں، اور گورنمنٹ ہائی اسکول سینٹ نگر میں بھی میٹرک درجے کے طلبہ کی تعداد بہت کم ہے۔ محکمہ نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں ایسے سینکڑوں اسکول موجود ہیں۔

محکمہ تعلیم کے مطابق اگر کسی اسکول کا ہائ اسکول درجہ واپس لیا گیا تو وہاں پہلے سے داخل میٹرک طلبہ کو قریبی دوسرے اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ آئے۔ منتقلی کے انتظامات اور کلاس ری شیڈولنگ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور بورڈز کے ساتھ مل کر طے کیے جائیں گے، تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ اور نفاذ کب ہوگا اس کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔

لاہور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تعلیم طارق محمود نے بھی کہا ہے کہ نویں جماعت کے کمزور نتائج رکھنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جن اسکولوں کے نتائج 30 فیصد سے کم آئے ہیں انہیں اپنی کارکردگی کی تحریری وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

محکمہ کے اس اقدام کا مقصد تعلیمی معیار بہتر بنانا اور کم وسائل کے ساتھ چلنے والے غیرمؤثر ہائ اسکول ڈھانچے کو ترتیب دینا بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگرچہ اسکولوں کا درجہ بدلنے سے انتظامی اور اساتذہ کی جگہیں متاثر ہوسکتی ہیں، لیکن مناسب منتقلی کے انتظامات اور وسائل کے اشارے طلبہ کے تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوں گے۔

محکمہ نے مزید کہا ہے کہ ریویو مکمل ہونے کے بعد جن اسکولوں کا درجہ تبدیل کیا جائے گا ان سے جڑے تمام عمل اور امکانات کا عوامی نوٹس دیا جائے گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515