نادرا اور وفاقی بورڈ کا طلبہ اندراجی نظام مربوط کرنے اور ڈیجیٹل والٹ متعارف کروانے پر معاہدہ

نادرا اور وفاقی بورڈ نے طالب علموں کے اندراج کو نادرا کے ریکارڈ کے ساتھ مربوط کرنے اور قابلِِ توثیق تعلیمی اسناد کے لیے محفوظ ڈیجیٹل والٹ متعارف کروانے پر معاہدہ کیا۔

قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور وفاقی بورڈ برائے انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 1 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت میٹرک اور داخلہ دوم کے طلبہ کے اندراج کو نادرا کے ریکارڈ کے ساتھ مربوط کیا جائے گا اور تعلیمی اسناد کے لیے محفوظ ڈیجیٹل والٹ تیار کیا جائے گا۔

قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور وفاقی بورڈ برائے انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے ایک باہمی ڈیٹا شیئرنگ میکانزم کے قیام پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت نادرا براہِ راست طالب علم کے کلیدی شناختی ڈیٹا ایف بی آئی ایس ای کو فراہم کرے گا۔

معاہدے کے تحت شیئر کیے جانے والی بنیادی معلومات میں طالب علم کا مکمل نام، والد کا نام اور تاریخِ پیدائش شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اندراج کے دوران پائے جانے والے ڈیٹا میں اختلافات اور غلطیوں کو کم کرنا اور انتظامی کارکردگی بہتر بنا کر درست، قابلِ توثیق تعلیمی اسناد جاری کرنا ہے۔

دونوں اداروں نے اعلان کیا کہ معاہدے کا ایک اہم جزو ‘ڈیجیٹل والٹ’ ہے جو طلبہ کو ان کے سرٹیفکیٹس تک آن لائن رسائی، انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے اور ڈیجیٹل طور پر اشتراک کرنے کی سہولت دے گا۔ نادرا نے اس مہم کو اپنے بڑے قومی شناختی نظام اور تعلیمی ریکارڈز کے انضمام کے حصے کے طور پر قرار دیا ہے۔

نادرا کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام بتدریج دوسرے صوبائی اور قومی سطح کے ثانوی اور ہائر سیکنڈری تعلیمی بورڈز، جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) تک ڈیجیٹل ڈیٹا شیئرنگ کو مربوط کرے گا، تاکہ پورے تعلیمی نظام میں یکسانیت اور قابلِ اعتماد تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔

معاہدے کی دستخطی تقریب نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ایف بی آئی ایس ای کے چیئرمین ڈاکٹر اکرام علی ملک اور نادرا کے چیئرمین شریک ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ مستقبل میں اس نظام سے امیدواروں کے داخلہ عمل، سرکاری و نجی اداروں میں تعلیمی اہلیت کی جانچ اور اسناد کی فراہمی میں آسانی متوقع ہے۔

نادرا اور ایف بی آئی ایس ای نے اس مشترکہ منصوبے کو طلبہ کے لیے زیادہ شفاف اور قابلِ اعتبار تعلیمی ریکارڈ فراہم کرنے کی سمت قدم قرار دیا ہے، جبکہ اس منصوبے کا اطلاق مرحلہ وار دیگر تعلیمی اداروں تک بڑھایا جائے گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519