مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کو نئے نوٹس جاری

این سی سی آئی اے نے مومینہ اقبال کے ہراسگی کے کیس میں نئے ڈیجیٹل شواہد ملنے کے بعد مومینہ اور ایم پی اے ساقب چدھر کو نوٹس جاری کیے؛ تفتیشی ٹیم کو ایک ماہ میں رپورٹ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

لاہور (کرائم رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ مومنہ اقبال اور پاکستان مسلم لیگ (ن) رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کو تازہ شواہد سامنے آنے کے بعد نوٹس جاری کر کے دونوں کو 4 ستمبر کو لاہور میں ایجنسی کے دفتر میں طلب کرتے ہوئے تین رکنی خصوصی تفتیشی ٹیم کو ایک ماہ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے نے مومنہ اقبال کی طرف سے گذشتہ ماہ آن لائن ہراسگی، سائبر بُلنگ اور دھمکیوں کے الزامات کے ضمن میں سامنے آنے والے نئے ڈیجیٹل شواہد کے بعد اداکارہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے کو تازہ نوٹس جاری کیے ہیں۔

این سی سی آئی اے کی طرف سے دونوں فریق کو پیش ہونے کو کہا گیا ہے جبکہ ایجنسی نے اِس معاملے کی علیحدہ اور تازہ تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے جو ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کی قیادت میں نئے شواہد اور موجودہ ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔

دوسری جانب لاہور کی عدالت نے ثاقب چدھڑ اور اُن کی اہلیہ کی عبوری ضمانت کی دائر درخواستیں واپس لینے پر نبٹا دیں۔

یاد رہے کہ 28 جولائی کے سماعت میں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ تفتیش میں ثاقب چدھڑ کو قصوروار پایا گیا تاہم جمعرات کی سماعت میں نئے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی منظرنامہ بدل گیا ہے اور گرفتاری اِس مرحلے پر ضروری نہیں۔

مومنہ اقبال نے مئی میں سوشل میڈیا پر الزام لگایا تھا کہ ایک ایم پی اے نے اُنہیں برسوں تک دھمکیاں اور ذاتی مواد کے ذریعے بلیک میل کیا جس کے بعد این سی سی آئی اے اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو متعدد مرتبہ اطلاع دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے 4 جون کو اُن کی شکایت کی بنیاد پر الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی بعض دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔

پنجاب کی وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر خبردار کیا تھا کہ اگر معاملے میں سیاسی دباؤ یا کسی خاتون کے خلاف ذاتی مواد کا دھمکی آمیز استعمال کیا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515