نیپال اوت تبت کے سیلاب میں ہلاکتیں 1,300 سے بڑھ گئیں، 5,339 تاحال لاپتہ

نیپال میں تریشولی 3 اے ہائیڈرو پلانٹ کی سرنگ سے نو روز بعد دو کارکن زندہ نکالے گئے؛ امدادی ٹیمیں مشکل حالات میں مزید 150 سے زائد محصور افراد کی بازیابی کی کوششیں کر رہی ہیں۔

کھٹمنڈو (مانیٹرنگ ڈیسک) نیپال میں آںے والے اچانک تباہ کُن اچانک سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1,301 ہو چکی ہے جبکہ 5,339 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق نو دن بعد دو افراد کو سرنگوں سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔

نیپالی پولیس کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1,280 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4,798 افراد لاپتا ہیں۔ تبت کے حکام کا کہنا تھا کہ وہاں ہلاکتیں 21 ہو گئی ہیں اور 541 افراد لاپتہ ہیں۔

نیپالی حکام نے کہا ہے کہ جب پہاڑی سیلابی ریلے دریائے تریشولی تک پہنچے تو پانی، مٹی اور ملبہ بڑی مقدار میں زیرِ زمین سرنگوں میں داخل ہو گیا جس سے کئی سرنگیں کیچڑ سے بھر گئیں اور وہاں کام کرنے والے متعدد کارکن اندر محصور ہو گئے۔ بعض کارکن بروقت باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے مگر ابتدائی اندازے کے مطابق ابھی بھی 150 سے زائد افراد مختلف سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ریسکیو آپریشن میں فوجی اہلکار پہاڑوں پر موجود بڑی چٹانوں کو کنٹرول شدہ دھماکوں کے ذریعے ہٹا رہے ہیں تاکہ رسائی کا راستہ بنایا جا سکے۔ انجینیئر مٹی سے بھری سرنگوں میں ہوا پمپ کر کے اندر موجود افراد کو آکسیجن کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑتی ہوئی زخمیوں اور محصور افراد تک پہنچنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

عالمی اور علاقائی امدادی ادارے اور مقامی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور لاشوں کی بازیابی کے لیے کام کر رہی ہیں، مگر مشکل زمینی راستے اور سرنگوں میں کیچڑ کی موجودگی ریسکیو کوششوں میں بڑے رکاوٹ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنوں میں تیزی لانے کے لیے تکنیکی اور فوجی وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو محفوظ نکالا جا سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527