لاہور (ویب ڈیسک) نیپال حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی تلاش اور ابتدائی امدادی کارروائیاں ختم کر دی جائیں گی، جبکہ بحالی اور تعمیرِ نو پر توجہ دی جائے گی۔
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ کے دفتر کی طرف سے پیر کو اعلان کیا گیا کہ 26 اگست کے سیلاب کے متاثرین کی تلاش اور امدادی آپریشنز روک دیے جائیں گے اور حکام اب بحالی و تعمیرِ نو پر کام کریں گے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق مزید کوششیں بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور نقصان کی بازیابی میں منتقل کر دی جائیں گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امدادی کارکنوں نے اب تک کم از کم 1,455 لاشیں نکال لی ہیں جب کہ 5,285 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ بحالی اور تعمیرِ نو پر 4.77 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
سیلاب کے نتیجے میں تقربیاً 33,000 افراد متاثر ہوئے اور لگ بھگ 7,500 مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ مقامِ وقوع پر دور دراز علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے امدادی سامان پہنچانے میں مشکلات سامنے آئیں۔
حکومت کے اس فیصلے پر لاپتا افراد کے اہل خانہ نے مخلوط ردعمل ظاہر کیا۔ ایک طرف کچھ خاندان — جنہیں امید ختم ہو چکی ہے — حکومت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے سرکاری طور پر موت کے سرٹیفکیٹ کے حصول کے خواہاں ہیں، تو دوسری طرف کئی ایسے افراد غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں جو تلاش جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
متاثرہ افراد کے نمائندے اور اہل خانہ احتجاجی مظاہروں اور دعائیہ اجتماعات کر چکے ہیں اور امدادی کارروائیوں کی مزید مؤثریت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعض خاندانوں نے علامتی آخری رسومات ادا کی ہیں، جبکہ بعض نے کہا ہے کہ انہیں سرکاری طور پر موت کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں تاکہ معاوضہ، انشورنس اور وراثت کے قانونی امور طے ہو سکیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے موت کے سرٹیفکیٹ سے متعلق مزید معلومات کے لیے نیپال کی حکومت سے رابطہ کیا مگر فوری جواب نہیں ملا۔




