پشاور (سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں سے گزرتا ہوا ضلع خیبر پہنچ گیا جبکہ سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ رات گئے دارالحکومت پشاور پہنچنے کے بعد ضلع خیبر روانہ ہو گیا اور پارٹی نے براہ راست اسلام آباد جانے کے بجائے مارچ کو ضلع خیبر تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی نے بتایا ہے کہ ضلع خیبر میں قبائلی ضلع مہمند کے کارکن بھی مارچ میں شریک ہوں گے۔
صوبائی حکام نے مارچ کو حساس قرار دیتے ہوئے سکیورٹی بڑھا دی۔ ذرائع کے مطابق 300 اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ اور نگرانی کے لیے ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے اعلیٰ انتظامی حکام کا اجلاس طلب کیا جس میں چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ہوم سیکریٹری اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے حکام شریک ہوئے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے گورنر کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد گورنر کے پاس اختیارات نہیں اور گورنر انتظامی امور میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عمران خان سے ملاقات اور اسپتال منتقلی کے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہئیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر کے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت کی موجودگی میں اس قسم کا اجلاس بلانا جمہوریت پر حملہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ اقدامات سے ملک میں بفرق کوششیں ہو رہی ہیں اور انہوں نے وفاقی اقدامات پر تنقید کی۔
پی ٹی آئی نے مارچ کی تاریخ تین بار تبدیل کی؛ پہلے 27 ستمبر پھر 4 اکتوبر اور اب 8 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ پارٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا مقصد وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنا اور بیک ڈور مذاکرات کے لیے ماحول بنانا تھا، تاہم مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔
حالیہ احتجاج اور سکیورٹی خدشات کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے پنجاب سے راستے تبدیل کر دیے اور بعض اشیائے خورد و نوش کی فراہمی میں خلل کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ تعلیمی بورڈز نے میٹرک کے امتحانات ملتوی کیے ہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان رابطے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ موٹرویز اور جی ٹی روڈ پر متعلقہ ادارے الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت جواب دیا جا سکے۔
ماخذ: ڈی ڈبلیو اردو کی رپورٹ میں دیے گئے بیانات اور صوبائی حکام کے بقول کی بنیاد پر تیار کی گئی اطلاع۔




