نیپال اور تبت کے تباہ کُن سیلاب میں بالکونی میں پھنسے خاندان کی وائرل ویڈیو

بدھ کو نیپال اور تبت سرحدی وادی میں گلیشیئر ٹوٹنے سے آیا سیلاب ایک گھر کی بالکونی میں پھنسے خاندان کی وائرل ویڈیو کے ساتھ سامنے آیا؛ نیپال پولیس کے مطابق ہلاکتیں 600 سے زائد ہو چکی ہیں۔

بدھ کے روز نیپال اور تبت کے سرحدی وادی میں گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پیدا شدہ سیلاب نے وسیع تباہی مچائی؛ نیپال پولیس کے مطابق ہلاکتیں 600 سے تجاوز کر گئی ہیں، چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں سات ہلاک اور 554 لاپتہ ہیں جبکہ ایک وائرل ویڈیو میں ایک مکان کی بالکونی میں پھنسے افراد کی حالت دکھائی دیتی ہے۔

نیپال میں بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناک تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جو بتاتی ہیں کہ پانی اور ملبہ ایک کے بعد ایک علاقے کو نگل رہے ہیں۔ نیپال پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 600 سے تجاوز کر گئی ہے، اِس سے قبل تعداد 579 بتائی گئی تھی۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت (تِبِت) میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد 7 بتائی گئی ہے جبکہ پانچ سو سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، بین الاقوامی رپورٹوں میں مختلف اعداد و شمار درج ہیں تاہم بی بی سی ویریفائی نے بتایا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے خاندان اِسی مکان میں محصور تھے، بی بی سی نے اُن کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

وائرل ویڈیو میں ایک گھر کی دوسری منزل یا بالکونی نما حصے میں کم از کم تین افراد، ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی، کیچڑ اور تیز بہاؤ میں گھومتے ملبے کے بیچ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں مکان کی چھت پر موجود ایک شخص یا خاتون سرخ دوپٹہ لہراتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ سیلاب کے زور سے بڑے پتھر اور ملبہ مستقل مکان سے ٹکرا رہے ہیں اور مقامی لوگ سیلاب کے کم ہونے پر مدد کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ (یو این) کے ایک ترجمان کے مطابق دس ہزار سے زائد خاندانوں کو فوری طور پر خوراک اور صاف پینے کے پانی کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیپالی اور چینی حکام کے مطابق سیلاب کا آغاز تبت کی جانب لہینڈے بھوٹیکوشی دریا میں گلیشیئر کے ایک حصے کے ٹوٹ کر گرنے سے ہوا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں ملبہ دریا میں آ گرا۔ مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ چینی حکام کی جانب سے بروقت سرکاری انتباہ موصول نہیں ہوا، جبکہ چینی حکام نے کہا کہ واقعہ اتنا اچانک تھا کہ نگرانی والے آلات بھی اس کی درست پیمائش نہ کر سکے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ایرک چِن نے ویڈیو کے مناظر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ منظر ‘‘دل دہلا دینے والا’’ ہے اور ایک مکان وہ آخری باریک لکیر ہے جو زندگی اور تباہی کے درمیان کھڑی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو تیز کر رہی ہیں جبکہ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516