نیپال اور تبت کے سیلابی ریلوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک، سینکڑوں غیر ملکیوں سمیت 384 سیاح لاپتہ

ہمالیائی بارشوں اور ممکنہ گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد نیپال اور تبت میں آنے والے سیلاب میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 384 سیاح لاپتا ہو گئے، امدادی کارروائیاں اور تلاش جاری ہیں۔

ہمالیائی سرحدی علاقوں میں بدھ کوشدید بارشوں اور ممکنہ گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے سیلاب نے کم از کم 22 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں غیر ملکیوں سمیت 384 سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، متعلقہ ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نیپال اور تبت کے سرحدی ہمالیائی علاقوں میں بدھ کو آنے والے اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے کے نتیجے میں کم از کم 22 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ 384 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں 290 سے زائد غیر ملکی شہری بتائے جا رہے ہیں۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے ڈائریکٹر سنتوش پنتا نے کھٹمنڈو میں بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی ابتدائی فہرست میں جرمنی، بھارت، امریکہ، سپین، لتھوینیا، برطانیہ اور ملائیشیاء کے شہری شامل ہیں۔

ابتدائی ریکارڈ اور ٹریول ایجنسیوں کی معلومات کے مطابق لاپتہ سیاحوں میں 92 نیپالی شہری شامل ہیں جبکہ غیر ملکی سیاحوں میں بھارتی شہری سب سے زیادہ ہیں جو تبت میں واقع مقدس مقام کیلاش مانسرور (کیلاش مانسرور) جانے کے راستے پر تھے۔ نیپال پولیس کے ترجمان نارائن کافلے نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ 26 پولیس اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔

کھٹمنڈو میں قائم بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی (آئی سی آئی ایم او ڈی) کے ماہرینِ موسمیات نے ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر سے برفانی تودہ گرنے کے باعث اچانک سیلاب آنے کی نشاندہی کی ہے جس نے متعدد گاؤں تباہ کر دیے اور سڑکوں، پلوں اور بجلی کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ نیپال کی طرف سے آنے والی مٹی کے تودے کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں تبت کے گیرونگ علاقے میں بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہوا اور کئی افراد لاپتہ ہو گئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی جن پنگ نے متاثرہ علاقوں میں ’’ہر ممکن‘‘ امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم اِس رپورٹ میں ہلاکتوں یا زخمیوں کی اضافی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

نیپال کے بعد بھارت کی ریاستیں اتر پردیش اور بہار خطرے سے نبٹنے کے لیے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ نیپال سے بہہ کر آنے والے پانی کے باعث گنڈک، کوسی، گھاگھرا، شاردا اور راپتی جیسی ندیوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے جو بھارت کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی حکام سیلاب متاثرین کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی مکمل فہرست اور مجموعی ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آئی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519