نیتن یاہو کے اقتدار کا فیصلہ کن امتحان؛ 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی اور ایران جنگ کا سیاسی حساب“
تل ابیب، (ویب ڈیسک) رپورٹ 27 اکتوبر 2026 — اسرائیل میں آج ہونے والے انتخابات وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے طویل سیاسی اقتدار کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے، غزہ کی جنگ، ایران کے ساتھ تصادم اور اسرائیل کی عالمی تنہائی نے ان کی قیادت کو شدید تنقید کی زد میں رکھا ہے۔ رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے اتحاد سے سخت مقابلے کے باعث نیتن یاہو کو حکومت برقرار رکھنے کے لیے پیچیدہ اتحادی مذاکرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، ووٹنگ سے پہلے کسی کی کامیابی یقینی نہیں۔
7 اکتوبر: سکیورٹی دعووں پر بنیادی سوال
نیتن یاہو نے برسوں اسرائیل کی سلامتی، دشمنوں کو شکست دینے اور فیصلہ کن فتح کے وعدوں کو اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بنایا۔ لیکن 7 اکتوبر کے حملے نے انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، خطرے کی پیشگی شناخت اور سیاسی و عسکری رابطہ کاری کی سنگین ناکامیوں پر سوال اٹھائے۔ تین سال بعد بھی اس واقعے کی ذمہ داری اور جامع سرکاری تحقیقات کا معاملہ اسرائیلی سیاست میں متنازع ہے۔ نیتن یاہو ناقدین کے الزامات مسترد کرتے اور اپنی سکیورٹی پالیسی کا دفاع کرتے رہے ہیں۔
تکنیکی پہلو: انٹیلی جنس اور دفاعی نظام کی حدود
جدید انٹیلی جنس میں نگرانی، سگنل انٹیلی جنس، انسانی ذرائع، خطرے کی درجہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اہم ہوتے ہیں۔ تاہم، جدید ٹیکنالوجی بھی غلط تجزیے، ناقص رابطہ کاری یا انتباہات پر بروقت کارروائی نہ ہونے کی تلافی نہیں کر سکتی۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی کامیابی بھی بذاتِ خود طویل مدتی سلامتی کی ضمانت نہیں؛ اس کے لیے جوابی حملوں، شہری نقصان، علاقائی کشیدگی اور سیاسی نتائج کا جائزہ ضروری ہے۔
کیا یہ اقتدار کا خاتمہ ہوگا؟
اسرائیل کا پارلیمانی نظام 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی حمایت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے ووٹوں کے ساتھ اتحادی جماعتوں، عرب جماعتوں کے ممکنہ کردار اور حکومت سازی کے مذاکرات بھی فیصلہ کن ہوں گے۔ یہ انتخاب صرف ایک رہنما کی مقبولیت نہیں بلکہ قومی سلامتی، جواب دہی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر عوامی فیصلہ بھی ہے۔




