نیتن یاہو کا اچانک متحدہ عرب امارات کا دورہ، اقوامِ متحدہ کے بعد کیا اہم پیش رفت متوقع ہے؟
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے 27 ستمبر 2026 کو ابوظبی کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔ اسرائیلی حکام نے دورے کی تصدیق کی، تاہم ابتدائی طور پر نیتن یاہو کے دفتر اور اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 2026 تقریر کے دوران درجنوں ممالک کے وفود نے ہال سے واک آؤٹ کیا۔ مختلف ذرائع نے تعداد تقریباً 70 سے 77 ممالک تک بتائی، تاہم تمام غیرحاضریوں کو باضابطہ احتجاج قرار دینا درست نہیں؛ کچھ وفود پہلے ہی ہال میں موجود نہیں تھے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت متعدد وفود ہال میں موجود رہے۔
نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر بنیادی طور پر اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے دفاع، ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیل پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کے جواب کے طور پر پیش کی۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق الزامات کو مسترد کیا اور اسرائیلی فوج کے اقدامات کا دفاع کیا۔
ابوظبی ملاقات کی تاریخی اہمیت 2020 کے ابراہیمی معاہدہ سے جڑی ہے، جس کے ذریعے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ 2026 میں دونوں ممالک کے تعلقات غزہ جنگ، ایران کے ساتھ علاقائی کشیدگی اور عرب عوامی رائے کے دباؤ کے درمیان ایک پیچیدہ مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اسی دوران نیویارک میں 24 ستمبر کو ابراہیمی معاہدے کے ممالک—امریکا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش—کا 7 اکتوبر 2023 کے بعد پہلا باضابطہ مشترکہ اجلاس بھی ہوا۔
موجودہ دورے کا ایک اور حساس پہلو یہ ہے کہ ہارٹز نیوز کی رپورٹ کے مطابق شیخ محمد بن زاید نے اکتوبر 2023 کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو حماس کی بڑی کارروائی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ نیتن یاہو نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔ رائٹرز نیوز کے مطابق اسی پس منظر میں دونوں رہنماؤں کی تازہ ملاقات مزید توجہ حاصل کر رہی ہے۔




