او جی آر اے نے مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان

او جی آر اے نے 28 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ سوئی نادرن اور سوئی سادرن کے لیے مائع قدرتی گیس کی قیمتیں فی ایم ایم بی ٹی یو $6.81 اور $6.95 کم کر کے بالترتیب $19.03 اور $18.13 مقرر کر دی گئی ہیں۔

تیل و گیس ریگولیٹری اتھارٹی (او جی آر اے) نے 28 اگست 2026 کو اعلان کیا ہے کہ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سادرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتیں زیادہ سے زیادہ 27.71 فیصد تک کم کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں نئی فی ایم ایم بی ٹی یو شرحیں نیچے درج کی گئی ہیں۔

تیل و گیس ریگولیٹری اتھارٹی (او جی آر اے) نے 28 اگست 2026 کو جاری کردہ نوٹی فیکیشن میں اعلان کیا ہے کہ ملک کے دو مرکزی گیس ڈسٹری بیوشن نظاموں کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں ہر ملین برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) پر $6.81 کی کمی کی گئی ہے، جس سے سابقہ $25.84 فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم ہو کر نئی قیمت $19.03 فی ایم ایم بی ٹی یو رہ گئی ہے۔ اس کمی کا تناسب ایس این جی پی ایل سسٹم پر 26.36 فیصد بتایا گیا ہے۔

اسی طرح سوئی سادرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) سسٹم کے لیے او جی آر اے نے فی ایم ایم بی ٹی یو $6.95 کی کمی کی، اور قیمتیں $25.08 فی ایم ایم بی ٹی یو سے گھٹ کر $18.13 فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئیں، جو کہ ایس ایس جی سی کے لیے 27.71 فیصد کمی کے برابر ہے۔

او جی آر اے کے جاری کردہ نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی شرحیں سابقہ نوٹیفائیڈ ریٹس $25.84 فی ایم ایم بی ٹی یو (ایس این جی پی ایل) اور $25.08 فی ایم ایم بی ٹی یو (ایس ایس جی سی) کی جگہ لیں گی۔ نوٹیفیکیشن میں اس کمی کی بنیاد قیمتوں کے جائزے اور متعلقہ فارمولا کے مطابق درج کی گئی ہے۔

پیغام میں اضافی تفصیلات میں او جی آر اے نے مختلف عوامل کے تناظر یا آئندہ ممکنہ ردوبدل کے بارے میں تفصیلی وضاحت نہیں دی؛ نوٹیفکیشن میں صرف نئی قیمتیں اور کٹوتی کی شرحیں ظاہر کی گئی ہیں۔

یہ فیصلہ توانائی سیکٹر کی قیمت کاری میں تبدیلیوں کی تازہ ترین کارروائی کے طور پر سامنے آیا ہے اور او جی آر اے کی جانب سے کیے گئے سرکاری جائزے کے تحت عمل میں آیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516