ڈان نیوز نے بتایا ہے کہ پاکستان کا موجودہ بجٹ عوام کی خریداری طاقت کم کر کے غذائیت سے بھرپور خوراک کو ناقابلِ برداشت بنا رہا ہے۔ ڈان نیوز کے اسوسی ایٹ پروڈیوسر مصطفی صدیقی کا کہنا ہے کہ لوگ نظر آنے والی بھوک تو پورا کر لیتے ہیں مگر ضروری غذائی اجزاء سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں 2 اور 3 ستمبر کو منعقد ہونے والی اے سی ٹی فار نیوٹریشن کانفرنس میں عالمی انسانیاتی رہنما، بین الاقوامی ادارے، معیشت دان، طبی ماہرین، وکلاء، فرنٹ لائن تنظیمیں اور صوبائی حکومتیں غذائی قلت کے بحران کا جائزہ لیں گی۔
ڈان نیوز کی وضاحتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب گھرانوں کی خریداری طاقت کم ہوتی ہے تو سب سے پہلے غذائیت سے بھرپور خوراک جیسے پھل، سبزیاں، دودھ اور گوشت کی خریداری میں کٹوتی ہو جاتی ہے۔ ڈان نیوز کے اسوسی ایٹ پروڈیوسر مصطفی صدیقی نے خبردار کیا کہ “ایک شخص نظر آنے والی بھوک تو دور کر لینے کے لیے کافی کیلوریز لے سکتا ہے، مگر پھر بھی صحت مند رہنے کے لیے درکار غذائی اجزاء سے محروم رہتا ہے۔”
رپورٹ کے ساتھ پیش کی گئی وضاحتی ویڈیو بتاتی ہے کہ بجٹ کی ترجیحات میں غذائیت کو خاص اہمیت نہ دینا کس طرح ملک گیر صحت کے نتائج کو متاثر کر رہا ہے۔ ویڈیو اور رپورٹ عوامی سطح پر غذائی رسائی، قیمتوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات کے تعلقات کی سادہ وضاحت پیش کرتی ہیں۔
اے سی ٹی فار نیوٹریشن کانفرنس، جو 2 اور 3 ستمبر کو سرینا ہوٹل، اسلام آباد میں ہو رہی ہے، کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت کو کھلے انداز میں زیرِ بحث لانا، اس کے باہمی تعلقات کو سمجھنا اور فوری حل تلاش کرنا بتایا گیا ہے۔ کانفرنس میں شرکاء میں بین الاقوامی ادارے، معیشت دان اور طبی ماہرین شامل ہوں گے جو پالیسی، عملدرآمد اور بین شعبہ جاتی تعاون کے طریقے تلاش کریں گے۔
ڈان نیوز کی پیش کردہ رپورٹ اور وضاحتی مواد حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ سمجھا جا رہا ہے کہ غذائیت کو بجٹ منصوبوں میں زیادہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے، ورنہ غربت میں گھرے خاندانوں کی صحت پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔




