جو روٹ نے ایل بی ڈبلیو کے تسلسل کے باوجود اعتماد کا اظہار کیا

انگلینڈ کپتان جو روٹ نے لارڈز میں پاکستان کے خلاف سیریز جیت کے بعد کہا ہے کہ حالیہ ایل بی ڈبلیو سلسلے اور فارم ڈپ کے باوجود وہ پرعزم ہیں اور اپنے تجربے سے مسائل حل کریں گے۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے کہا ہے کہ حالیہ فارم ڈپ اور پچھلے 12 اننگز میں 9 بار ایل بی ڈبلیو ہونے کے باوجود وہ خوداعتماد ہیں اور اپنی 14,208 ٹیسٹ رنز کی قابلیت کے ذریعے مشکل دور سے باہر نکلیں گے، یہ اعلان لارڈز میں پاکستان کے خلاف ہوم سیریز جیت کے بعد بی بی سی کو دیا۔

لندن — انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے بدھ نما دباؤ کو ہوا میں اڑا دیا، جب انہوں نے اپنی حالیہ فارم کی بگڑتی تصویر کے باوجود خود کو بہتر کرنے کا یقین دلایا۔

روٹ، جو 14,208 ٹیسٹ رنز کے ساتھ انگلینڈ کے سب سے بڑے ٹیسٹ رنز سکورر ہیں اور تاریخی فہرست میں بھارت کے سچن ٹنڈولکر (15,921) کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں، نے کہا کہ وہ طویل عرصہ کرکٹ کھیلنے کے باعث مشکل حالات کا سامنا کرنا جانتے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: “میں یہ کھیل کافی عرصہ سے کھیل رہا ہوں اور ہمیشہ ایسے مسائل کے حل نکالے ہیں اور اس کو عبور کیا ہے۔ میں اسے کسی مختلف مسئلہ کے طور پر نہیں دیکھتا۔ اسی وجہ سے میرے پاس 14,000 رنز ہیں اور اسی وجہ سے میں نے اس سطح پر تقریباً 15 سال کھیلیں۔”

یہ تبصرے اس وقت آئے جب انگلینڈ نے لارڈز میں پاکستان کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز جیتی۔ روٹ نے اس میچ میں پہلی اور دوسری اننگز میں بالترتیب 4 اور 24 رنز بنائے اور دونوں اننگز میں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق روٹ گزشتہ 12 اننگز میں 9 مرتبہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، جب کہ انگلینڈ کے ہوم سمر میں انہوں نے صرف 2 بار نصف سنچری بنائی۔

روٹ نے کہا کہ اس طرح کے دور آئیں گے اور وہ پُراعتماد ہیں کہ اپنی تکنیک اور ذہنی روش سے واپس آئیں گے۔

انہوں نے ٹیم کے نظم و ضبط اور جشنی رویے پر بھی زور دیا، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب فاسٹ بولر برائڈن کارسے کو ڈربی کے ایک نائٹ کلب کے باہر پیش آنے والے واقعے کے بعد اسکواڈ سے نکالا گیا تھا۔ روٹ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر کھلاڑیوں سے بات کی ہے اور ٹیم کو کامیابیوں کا جشن مناتے ہوئے سمجھداری دکھانے کی ضرورت ہے:

“ٹیسٹ میچ جیتنا مشکل ہے، ٹیسٹ سیریز جیتنا مشکل ہے۔ خوشی منائیں اور جشن منائیں، مگر یہ سب ایک سمجھدار اور بالغانہ انداز میں ہونا چاہیے۔”

روٹ کی خوداعتمادی اور تجربے کو انگلش کرکٹ حلقوں میں اس امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ جلدی اپنی فارم بحال کر لیں گے اور ٹیم کی عالمی سطح پر کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516