قومی اسمبلی نے جمعرات کو دو اہم بِل ’’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق ترمیمی بِل‘‘، کثرتِ رائے سے منظور کر لیے۔ ایکٹ 13 نومبر 2025ء سے موثر تصور کیا جائے گا جبکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے لیے ترامیم 27 نومبر 2025ء سے نافذ ہوں گی۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء ایوان میں پیش کیا جسے شق وار ووٹنگ کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔ اسی طرح نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) سے متعلق ترمیمی مسودہ بھی پیش کر کے منظور کرا لیا گیا۔
نئے ایکٹ میں دفاعی افواج کے ہیڈکوارٹر کے قیام کا ذکر کیا گیا ہے اور اِسے چیف آف ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر قرار دیا گیا ہے۔ بِل واضح کرتا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز وزیرِاعظم کے قومی سلامتی اور مسلح افواج کے معاملات پر اعلیٰ فوجی مشیر ہوں گے اور اُن کے پاس مسلح افواج کا عملیاتی اور کمانڈ کنٹرول ہوگا۔ بِل کے مطابق یہ افسر وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوگا۔
ایکٹ میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مشمولہ اختیارات دئیے گئے ہیں جن میں کسی بھی شخص کو مسلح افواج سے متعلق قوانین کے تحت ملازمت سے سبکدوش، برطرف، یا ریٹائر کرنا شامل ہے، نیز استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے اور ملازمت کی مدت یا ریٹائرمنٹ عمر میں کمی کے اختیار بھی شامل ہیں تاہم اس میں آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت تقرر شدہ افراد کو شامل نہیں کیا گیا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے ترمیمی بل کے مطابق موجودہ قانون میں جہاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی‘ کا حوالہ ہے وہاں چیف آف ڈیفنس فورسز کے الفاظ شامل کیے جائیں گے نتیجتاً چیئرمین جوائنٹ چیفس کا دفتر ختم کر کے این سی اے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو باقائدہ رُکن بنایا جائے گا۔ مسودے میں کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کو بھی این سی اے میں شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ سٹریٹیجک فورسز کے امور میں نمائندگی قانونی حیثیت رکھے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ دونوں بلوں میں معمولی ترامیم کی گئی ہیں اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا آفس ختم کر کے متعلقہ اختیارات نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو منتقل کیے گئے ہیں۔
بلوں کی منظوری سے قبل اپوزیشن نے ضمنی ایجنڈے پر پیش کیے جانے کی کوشش کی مخالفت کی تاہم حتمی منظوری حاصل کر لی گئی۔ مسودوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نفاذ میں کوئی تضاد یا دشواری درپیش ہو تو صدر مملکت حکم کے ذریعے اُس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے جبکہ موجودہ قواعد و ضوابط اُسی حد تک برقرار رہیں گے جب تک کہ وہ ایکٹ سے متصادم نہ ہوں۔
یہ ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے بعد متعارف کرائی گئی ہیں جن کے تحت نومبر 2025ء میں مسلح افواج کے کمانڈ ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی تھی اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آئین میں شامل کیا گیا تھا۔




