پاکستان نے مالی سال 2026 میں ریکارڈ تقریباً 570 ملین ڈالر کی مچھلی برآمد کی

مرین فشریز ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پاکستان نے تقریباً 570 ملین ڈالر مالیت کی مچھلی برآمد کر کے ریکارڈ قائم کیا، اور پروسیسنگ سے برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں۔

مرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026 (ایف وائی 26) میں تقریباً 570 ملین ڈالر مالیت کی مچھلی اور ماہی پروری مصنوعات برآمد کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ محکمے نے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات برآمد کرنے سے برآمدات کو 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت بھی نشان زد کی۔

مرین فشریز ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ مالی سال 2026 (ایف وائی 26) کے دوران پاکستان نے تقریباً 570 ملین ڈالر کی مچھلی اور دیگر ماہی پروری مصنوعات برآمد کیں، جو ملک کے لیے ایک نیا برآمدی ریکارڈ ہے۔

محکمہ نے کہا ہے کہ پاکستانی سمندری مصنوعات کا یورپی یونین (ای یو) کی دکانوں تک پہنچنا بین الاقوامی برانڈز اور صارفین میں اعتماد بحال کرنے میں مددگار رہا ہے۔ ماضی میں یورپی بازار میں مشکلات آئیں تھیں، تاہم حالیہ برآمدات نے دوبارہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی قبولیت واضح کی ہے۔

محکمہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر پاکستان خام مواد کی بجائے پروسیس شدہ اور قیمت میں اضافہ شدہ مصنوعات پر توجہ دے تو ماہی پروری برآمدات کو ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سفارش کے مطابق پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر سرمایہ کاری کر کے سمندری وسائل سے زیادہ معاشی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

محکمہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یورپی مارکیٹ میں گزشتہ برسوں میں جزوی رسائی ملی تھی، اور اس اعتماد کی بحالی کا مطلب یہ ہے کہ مزید کمپنیوں اور مصنوعات کے لیے بین الاقوامی مواقع کھل سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برآمدی تنوع اور قدر میں اضافہ برآمدی آمدنی بڑھانے کی کلید ہوگا۔

یہ اعلان پاکستان کی ماہی پروری صنعت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جس سے نہ صرف زرِ مبادلہ میں اضافہ متوقع ہے بلکہ روزگار اور صنعتی ترقی کے لیے بھی نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531