پاکستانی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ میں 11 ویں پوزیشن پر خوش، سابق کھلاڑی ناراض

نیدر لینڈز میں کھیلے گئے ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر 11 ویں پوزیشن حاصل کی؛ فیڈریشن خوش ہے جبکہ سابق کپتان شہباز احمد نے اس پر جشن کو نامناسب قرار دیا۔

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے نیدر لینڈز کے امستلوین میں کھیلے گئے ہاکی ورلڈ کپ میں جمعے کی شب جنوبی افریقہ کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر 11 ویں پوزیشن حاصل کی؛ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) عہدیدار خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ سابق کپتان شہباز احمد نے جشن کو نامناسب قرار دیا۔

نیدر لینڈز کے شہر امستلوین میں کھیلے گئے ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان نے پچھلے چند مقابلوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی اور جمعرات کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں مقررہ وقت کے بعد 4-4 کے اسکور کے بعد پینلٹی شوٹ آؤٹ میں 4-3 سے کامیابی حاصل کی، جس سے ٹیم کو 11 ویں پوزیشن مل گئی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے ایڈہاک صدر محی الدین وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ہاکی پر 50-60 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں اور اُن کے بقول انہی کوششوں کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ پی ایچ ایف کے عہدیداروں اور بعض رپورٹس نے اس پوزیشن کو پچھلے 20 برس میں مثالی قرار دیا۔

تاہم اس فیصلے پر سب متفق نہیں۔ 1994 میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان شہباز احمد سینیئر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 16 ٹیموں کے مقابلے میں 11 ویں نمبر پر آنا بڑی کامیابی نہیں ہے اور اس پر جشن منانے کی بجائے کھیل کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف ایشین گیمز میں کامیابی حاصل کرنا ہونا چاہیے تاکہ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفائی کیا جا سکے۔

ٹورنامنٹ میں پاکستان اپنے پول میچز میں انڈیا اور انگلینڈ سے ہارا، جبکہ ویلز کے ساتھ میچ برابر رہا، جس کی وجہ سے ٹیم ٹرافی کی دوڑ سے باہر ہو کر کلاسیفیکیشن راؤنڈ کھیلنے پر مجبور ہوئی۔ کلاسیفیکیشن مرحلے میں ٹیم کو نیوزی لینڈ سے شکست بھی ہوئی جبکہ جاپان کے خلاف فتح بھی درج رہی۔

کچھ سابق کھلاڑی اور مبصران اس پیش رفت کو مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ نامی کھلاڑی عماد بٹ نے ایکس پر لکھا کہ 11 ویں پوزیشن خاتمہ نہیں بلکہ آغاز ہے اور نظریں اگلے ہدف یعنی ایشین گیمز پر ہیں، جبکہ سابق گول کیپر عمران بٹ نے بھی اس کو ایک مثبت پیش رفت کہا۔

تاریخی طور پر پاکستان نے ہاکی ورلڈ کپ چار مرتبہ جیتا ہے—1971، 1978، 1982 اور 1994—لیکن نوے کی دہائی کے بعد ٹیم کی کارکردگی مسلسل کم ہوتی رہی۔ اس موقع پر مباحثہ جاری ہے کہ آیا انتظامی مسائل، وسائل کی کمی یا دیگر عوامل اس زوال کی بنیادی وجہ ہیں اور آئندہ حکام و کھلاڑی کس حکمتِ عملی سے کھیل کو دوبارہ عالمی سطح پر لائیں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531