نئی دہلی اور اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے ہائی کمیشنز کے باہر ‘تجاوزات’ ہٹا دی گئیں

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر اور اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے سامنے بنائے گئے عارضی ڈھانچے اور پارکنگ پولز تجاوزات قرار دے کر ہٹا دیے گئے؛ دونوں وزارت خارجہ سے باضابطہ بیان نہیں آیا۔

20 اگست 2026 کو انڈیا اور پاکستان کے دارالحکومتوں میں دونوں طرف سفارتی عمارتوں کے باہر بنائے گئے عارضی ڈھانچے اور رکاوٹیں تجاوزات قرار دے کر ہٹا دی گئیں؛ دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن، اور اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن، مصری سفارتخانہ اور اقوامِ متحدہ کے فوڈ آفس کے باہر کارروائیاں کی گئیں۔

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے باہر لگائے گئے ٹِن شیڈ، لوہے کی ریلنگ، لکڑی کے ڈھانچے اور دیگر عارضی کنٹینرز انڈین حکام نے ہٹا دیے ہیں۔ ایشیئن نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی رپورٹوں کے مطابق یہ قدم اس تناظر میں اٹھایا گیا کہ اسلام آباد میں بھی پاکستانی حکام نے انڈین ہائی کمیشن کے سامنے موجود پارکنگ پولز اور سکیورٹی بیریکیڈ ہٹائے تھے۔

انڈین میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دلی میں ٹریفک بولارڈز اور لوگ کھڑے رکھنے کے لیے لگائی گئی ریلنگ جیسی رکاوٹیں ہٹائی گئیں اور ویزا سیکشن کے باہر آنے والے وزیٹرز کے لیے بنائے گئے شیڈز کو بھی گرایا گیا۔ پی ٹی آئی کی شائع کردہ ایک تصویر میں ٹِن کی چادریں اور ملبہ زمین پر پڑا دکھایا گیا ہے۔

ادھر پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے سینیئر اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو تصدیق کی کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف حالیہ کارروائی کے دوران انڈین ہائی کمیشن، مصری سفارتخانے اور اقوامِ متحدہ (یو این) کے فوڈ آفس کے باہر رکھی گئی عارضی عمارات، کیبنز اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے۔

اسلام آباد انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے چند ماہ قبل ڈپلومیٹک انکلیو میں سڑکوں اور فٹ پاتھ کی صفائی اور خوبصورتی کے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا اور ایک ماہ قبل وزارت خارجہ میں تمام سفارتخانوں کے نمائندوں کو بریفنگ دے کر کہا گیا تھا کہ اپنی پلاٹ لائن سے باہر رکھی گئی اشیا خود ہٹا دیں۔ متعدد مشنز نے ہدایات پر عمل کیا، مگر انڈیا، مصر اور اقوامِ متحدہ کے فوڈ آفس کے سامنے موجود تجاوزات برقرار تھیں، اس لیے متعلقہ اداروں نے انہیں ہٹایا۔

پولیس اور انتظامی اہلکاروں نے کہا کہ پہلے سفارتخانوں کو اِن تجاوزات کو خود ہٹانے کی تنبیہ کی گئی تھی اور بعض حکام نے ناراضی بھی دکھائی، تاہم اسلام آباد میں کارروائی پرسکون طریقے سے مکمل ہوئی۔ دلی میں ایک سابق انڈین ایئر وائس مارشل پرشانت موہن (ریٹائرڈ) نے اے این آئی کو کہا کہ ‘ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے کہ پاکستان نے اسلام آباد میں کیا کیا؛ اگر ہم وہی کر رہے ہیں تو ہم ان کی سطح پر آ رہے ہیں۔’

اب تک دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا۔ ڈپلومیٹک انکلیو میں یہ اقدامات دونوں طرف کی باہمی کارروائیوں کے ردِعمل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519