27 اگست 2026 کو پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت نے ایک فریم ورک معاہدہ طے کیا جس کے تحت صوبے میں تقریباً 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنیں اپ گریڈ کی جائیں گی، اور کوہاٹ سے تھل تا خارلاچی تک 192 کلومیٹر کا اسٹریٹجک ریل لنک بھی تجویز کیا گیا ہے۔
پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت نے جمعرات کو ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد صوبائی ریلوے نیٹ ورک کی توسیع اور جدید کاری ہے۔ معاہدے کے تحت تقریباً 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔
مقترحہ روٹس میں پشاور-نوشہرہ-جہانگیرہ، نوشہرہ-مردان-ڈرگئی، نوشہرہ-مردان-چارسدہ، نصیرپور (چمکنی)-جمروڈ، اور جمروڈ-لنڈی کوتل سفاری ریلوے شامل ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے کہا ہے کہ یہ اپ گریڈ مسافر دونوں اور تجارتی نقل و حمل کی سہولت کو بہتر بنائے گی۔
معاہدے میں ایک جداگانہ تجویز بھی شامل ہے: کوہاٹ سے تھل کے راستے خارلاچی تک 192 کلومیٹر اسٹریٹجک ریل لنک۔ حکام نے اس لنک کو صوبائی رابطے مضبوط کرنے اور نئے تجارتی و مسافری مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے ہنیف عباسی نے کہا کہ یہ شراکت داری ریلوے کنیکٹوٹی کو بہتر بنائے گی، مسافروں کے لیے سہولیات کو جدید کرے گی اور روزمرہ سفر کو آسان بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں باہمی مشاورت کے ذریعے اضافی روٹس اور مالی معاونت کے آپشنز بھی تلاش کریں گی۔
معاہدے میں پشاور کینٹنمنٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ ریلوے اسٹیشنز کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں مسافر سہولیات، صفائی اور سیکیورٹی میں بہتری کے اہداف طے کیے گئے ہیں۔
ہنیف عباسی نے ریلوے سیفٹی پر بھی زور دیا اور خیبر پختونخوا حکومت سے کہا کہ وہ پاکستان ریلوے کے ساتھ مل کر صوبہ کے 81 غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے فوری کام کرے۔
حکومتوں نے اس معاہدے کو وفاقی اور صوبائی سطح پر ریلوے کی جدید کاری اور بہتر ہم آہنگی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ مخصوص شیڈول اور فنڈنگ کے معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔



