پاکستان نے بی پی سنگاپور کی اسپاٹ ایل این جی پیشکش $26.7128 فی ایم ایم بی ٹی یو پر مسترد کر دی، جو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کو 8 ستمبر تا 12 ستمبر ڈیلیوری کے لیے موصول شدہ دو آفرز میں سب سے کم قیمت تھی؛ پیٹروچائنا نے $26.98 فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکش کی۔
پاکستان نے ایک بار پھر بی پی سنگاپور کی اسپاٹ ایل این جی پیشکش کو قیمت بہت زیادہ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ فراہم کردہ صفحہِ حوالہ کے مطابق یہ آفر $26.7128 فی ایم ایم بی ٹی یو تھی اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کو یہ آفرز 8 ستمبر تا 12 ستمبر کی ڈیلیوری کے لیے موصول ہوئیں۔ اسی مقابلے میں پیٹروچائنا نے $26.98 فی ایم ایم بی ٹی یو کی آفر دی تھی۔
یہ فیصلہ اسی ہفتے کیے گئے ایک اور فیصلے کی پیروی کرتا ہے جب حکام نے بی پی سنگاپور کی 4 ستمبر تا 8 ستمبر کی ڈیلیوری کے لیے $26.969 فی ایم ایم بی ٹی یو کی آفر بھی مسترد کر دی تھی، کیونکہ قیمتیں دوبارہ بہت زیادہ سمجھی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی ایل این جی قیمتیں، بحری کرایہ، انشورنس اور ہرمز کی تنگی کے گرد جغرافیائی و سیاسی خطرات کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں، جس سے اسپاٹ خریداری مہنگی ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں حکومت کو دو مشکل آپشنز کا سامنا ہے: یا کافی ایل این جی خرید کر فراہمی کو یقینی بنانا یا مہنگی کھیپوں سے گریز کرنا تاکہ بجلی پیدا کرنے کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔
ماخذ کے مطابق عالمی مارکیٹ اور شپنگ اخراجات میں اضافہ پاکستان کے بجٹ اور توانائی لاگت پر براہِ راست دباؤ ڈال سکتا ہے، اس لیے حکام قیمت اور دستیابی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔




