حکومت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پیر کو پہلی تجارتی کسٹمز بونڈڈ آئل اسٹوریج کی تنصیب کے لیے پٹرولیم درآمدی پالیسی کے رہنما اصولوں پر نظر ثانی کی منظوری طلب کرے گی، جس کا مقصد خلیجی پیدا کنندگان اور بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں کو سہولت دہی اور فیول سیکورٹی مضبوط کرنا ہے۔
وفاقی پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ تجویز کردہ نظام کے تحت غیر ملکی سپلائرز اور عالمی کموڈیٹی ٹریڈرز پاکستان میں خام تیل اور تیار شدہ انرجی مصنوعات اسٹور کر سکیں گے، جو یا تو ملک میں فروخت ہوں گی یا دوبارہ برآمد کی جائیں گی۔ اس کے بدلے حکومت کو باقاعدہ طور پر اعلان شدہ ہنگامی حالات میں ان ذخائر تک رسائی حاصل ہو گی۔ پٹرولیم ڈویژن کی تیار کردہ تجویز میں منظور شدہ نجی اور سرکاری اسٹوریج ٹرمینلز پر خام تیل، پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، فرنِس آئل، ایل پی جی اور ایل این جی کے ذخائر رکھنے کی اجازت شامل ہے۔ مجوزہ مقامات میں پورٹ قاسم، کراچی پورٹ ٹرسٹ/کیماری، ہب، گوادر، محمود کوٹ، ماچیکے اور شیخوپورہ شامل ہیں، جبکہ برآمدی مقاصد کے لیے پورٹ بیسڈ سہولیات بھی منظور ہوں گی۔ پالیسی کے تحت بندڈ اسٹاکز کو پورٹ سہولتوں سے منظور شدہ اندرونِ ملک مقامات تک پاکستان کے پٹرولیم پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کیا جا سکے گا بغیر کسٹم ڈیوٹی یا ٹیکس کے، بشرطیکہ وہ سامان بونڈڈ آپریشن میں برقرار رہے۔ موجودہ درآمدی نظام، جو لائسنس یافتہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور ریفائنریز پر لاگو ہے، اسی کے ساتھ برقرار رہے گا۔ غیر ملکی سپلائر یا کنسائنی پاکستان میں لائزن آفس کے ذریعے یا مخصوص کنسائنی کے ذریعے حصہ لے سکے گا، جس میں مقامی شاخ یا کمپنی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ کنسائنی یا تو مختص اسٹوریج انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے یا موجودہ نجی یا سرکاری بونڈڈ گوداموں اور ٹرمینلز کا استعمال کر سکیں گے، بشرطیکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، کسٹمز اور متعلقہ بندرگاہی حکام کی منظوری حاصل ہو۔ مجوزہ فریم ورک اسٹاکز بونڈڈ رہنے تک غیر ملکی سپلائرز اور کنسائنیز کے لیے ٹیکس نیوٹرل ٹریٹمنٹ فراہم کرے گا؛ جب مصنوعات داخلی کھپت کے لیے جاری ہوں گی تو ڈیوٹیز، ٹیکس اور لیوی عائد ہوں گے اور مقامی او ایم سی یا ریفائنری ایکس-بونڈنگ مرحلے پر سیلز ٹیکس کی ذمہ دار ہوگی۔ اس کے علاوہ بونڈڈ مصنوعات کی مقامی فروخت اوگرا کی قیمت نوٹیفیکیشنز کے تابع نہیں ہوگی، جبکہ مقامی خریداروں کی جانب سے اندرونِ ملک فروخت پر ریگولیٹڈ قیمتوں کا اطلاق ہو گا۔ حکومت کو جنگ، مسلح تصادم، بڑا قدرتی آفت یا مکمل دستاویزی طور پر داخلی سپلائی کے انہدام کی صورت میں بونڈڈ ذخائر ضبط کرنے اور بین الاقوامی مارکیٹ قیمت کے مطابق معاوضہ دینے کا حق حاصل رہے گا—معاوضہ متعلقہ پلاتس ہفتہ وار اوسط کے مطابق ہوگا۔ پٹرولیم ڈویژن نے 7 مئی 2026 کو پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور جون میں ڈرافٹ گردش کرنے اور بعد ازاں ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) سمیت متعلقہ اداروں کے تبصروں کے بعد اسے مزید درست کیا گیا۔ ایف بی آر نے بعض شقوں، خاص طور پر کسٹم ایکٹ، 1969 اور سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 سے متعلق خدشات برقرار رکھے۔ اس پالیسی میں 5 اگست کے اجلاس کے بعد مزید ترامیم کی گئیں۔




