لندن میں لارڈز کے دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ/ٹیم مینجمنٹ نے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو واپس پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا، اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل چھ کھلاڑیوں کو سکواڈ میں شامل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ نے لارڈز کے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف 194 رنز کی ہار کے فوری بعد ایمرجنسی میٹنگ میں بڑے اسکواڈ تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وکٹ کیپر اور بلے باز محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو فوری طور پر انگلینڈ سے واپس پاکستان بھیجا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ رضوان دونوں میچز میں جارحانہ کھیل کے دوران آؤٹ ہوئے اور حالیہ فارم پر تنقید کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ رضوان نے پچھلے چار ٹیسٹ میں مجموعی طور پر صرف 94 رنز بنائے ہیں جن میں لارڈز میں 7 اور 1، لیڈز میں 12 اور 41 اور ویسٹ انڈیز کے خلاف پچھلے دو میچوں میں 18، 12 اور 11 شامل ہیں۔
امام الحق لارڈز میں کھیلنے کے باوجود بائیں بچھڑے کی چوٹ کے باعث کسی بھی اننگز میں بیٹنگ نہیں کر سکے تھے، اسی وجہ سے انہیں بھی واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کی یہ کارروائی سیریز میں پرفارمنس میں بہتری اور آئندہ میچ کے لیے متبادل تیار کرنے کے تحت مانی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سکواڈ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے چھ کھلاڑی طلب کیے گئے ہیں جن میں سائم ایوب اور عرفات منہاس کے نام نمایاں ہیں۔ فاسٹ باؤلرز رضا اللہ اور عمران جونیئر کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ دیگر کھلاڑی ویزا ملنے کے بعد برمنگھم روانہ ہوں گے۔
تیسرے اور آخری ٹیسٹ کا آغاز برمنگھم میں 9 ستمبر کو ہو گا اور پاکستان اس میچ میں سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ پی سی بی یا قومی ٹیم کے سرکاری بیانات شائع نہیں ہوئے؛ یہ معلومات پروپیکیستانی کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔
میچ کی شکست کے بعد ٹیم میں متوقع تبدیلیاں اور نئے کھلاڑیوں کے شامل کیے جانے سے پاکستان کے بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں توازن بدلنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ اگلے دنوں میں پی سی بی کی جانب سے حتمی اسکواڈ اور آفیشل اعلانات متوقع ہیں۔




