کابل پہلے عملی اقدام کرے، پھر مذاکرات آگے بڑھیں گے، ترجمان دفترِ خارجہ خان

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا انحصار دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات پر ہے؛ اس سلسلے میں سرحد پار سے لاحق خطرات، اقوام متحدہ کی نگرانی اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

کابل پہلے عملی اقدام کرے، پھر مذاکرات آگے بڑھیں گے

اسلام آباد،(ویب ڈیسک) رپورٹ 24 اکتوبر 2026 — پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقبل کی سفارت کاری کا انحصار افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات پر ہوگا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 23 اکتوبر کی پریس بریفنگ میں کہا کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں سرگرم مسلح تنظیموں کی موجودگی تسلیم کرنے اور خطرات کی روک تھام کے لیے قابلِ اعتماد نظام قائم کیے بغیر مذاکرات کا کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ترجمان کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 1,300 سے زائد پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔

20 سے زائد تنظیمیں: علاقائی سلامتی کا سوال

پاکستانی مؤقف کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل(ایس آئی جی اے آر) کی رپورٹس افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے متعلق خدشات کی تائید کرتی ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ چین، ایران اور ازبکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، ان تنظیموں کی تعداد اور سرگرمیوں کی نوعیت سے متعلق ہر دعوے کو متعلقہ رپورٹ کے دائرۂ کار کے مطابق جانچنا ضروری ہے۔اقوامِ متحدہ کی دسمبر 2025 کی مانیٹرنگ رپورٹ نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان سے حملوں اور اس مسئلے سے پیدا ہونے والی سرحدی کشیدگی کو نمایاں کیا تھا۔ رپورٹ میں طالبان حکام کے اس دعوے کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا گیا کہ ان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ سرگرم نہیں۔ یہ رپورٹ پاکستان کے مؤقف کے بعض اہم پہلوؤں کی تائید کرتی ہے، تاہم اسے ہر پاکستانی الزام کی خودکار تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

تکنیکی پہلو: قابلِ تصدیق سکیورٹی نظام کیا ہوگا؟

مؤثر سرحدی تعاون کے لیے محض سیاسی یقین دہانیاں کافی نہیں۔ اس میں مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی، سرحد پار نقل و حرکت کی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، حملوں کی آزادانہ تحقیقات اور خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کا واضح طریقۂ کار شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے نظام کی افادیت کا انحصار شفافیت، مسلسل نگرانی اور قابلِ پیمائش نتائج پر ہوگا۔ پاکستان کے مطابق، 2021 سے دوطرفہ رابطوں اور ماسکو فارمیٹ، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین سے متعلق سفارتی کوششوں کے باوجود مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ دوسری جانب، طالبان حکام پاکستان میں بدامنی میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کرتے رہے ہیں اور مسئلے کے سفارتی حل کی حمایت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356