پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) نے وفاقی حکومت کی منظوری سے ٹیلی کمیونیکیشن سٹینڈرڈ ریگولیشنز کے لیے جاری کیے گئے ایس آر او کے ذریعے گزٹ آف پاکستان میں نوٹیفائی کروا کر فوری نافذ کر دیا ہے۔ یہ قواعد ٹیلی کام لائسنس ہولڈرز، مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان پر لاگو ہوں گے اور آلات کی جانچ و سرٹیفیکیشن کے لیے بین الاقوامی معیار اپنانے کا فارمولہ طے کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کیے گئے نئے قواعد کا مقصد ملکی مارکیٹ میں داخل ہونے والے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی جانچ اور سرٹیفیکیشن کے عمل کو یکساں بنانا ہے۔ قواعد میں مختلف قسم کے ٹیلی مواصلاتی آلات کے لیے یکساں تکنیکی معیارات اور جانچ و سرٹیفیکیشن کے طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔
یہ فریم ورک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیارات اور اداروں پر مبنی ہے۔
قواعد الیکٹرو میگنیٹک کیپیبلٹی، صحت اور حفاظت، آپٹیکل اور لیزر حفاظت، ریڈیو فریکوینسی کمیونکیشنز، موبائل ڈیوائسز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز اور دیگر ٹیلی کمیونیکیشن آلات سمیت دیگرتکنیکی شرائط کے وسیع دائرہ کار کو کور کرتے ہیں۔
نئے ضوابط میں این ایف سی، آر ایف آئی ڈی، وائی فائی، جی پی ایس، یو ایم ٹی ایس، ایل ٹی ای، جی ایس ایم، مائیکروویو سسٹمز، بیس اسٹیشنز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن ڈیوائسز جیسے آلات کے لیے تکنیکی بنچ مارکس بھی متعین کیے گئے ہیں۔
قواعد کے تحت سرٹیفکیٹ آف کمپلائنس حاصل کرنے کے خواہشمند درخواست دہندگان کو ایسی ٹیسٹ رپورٹس جمع کروانی ہوں گی جو معین بین الاقوامی معیارات کے مطابق اکریڈیٹڈ لیبارٹریوں نے جاری کی ہوں۔ تمام ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی جانچ پی ٹی اے کی جانب سے متعین کردہ معیارات کے مطابق ہو گی، تاہم جہاں مخصوص تکنیکی بنچ مارک موجود نہ ہوں پی ٹی اے اضافی معیارات اپنانے کا اختیار رکھتا ہے۔
مزید برآں، پی ٹی اے کی طرف سے جاری کی جانے والی تمام ہدایات، نوٹیفیکیشنز، ای او پیز اور احکامات سٹیک ہولڈرز کے لیے قانونی طور پر لازم العمل ہوں گے۔ ٹیلی کام لائسنس ہولڈرز، مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو لازمی ہے کہ وہ کم از کم 3 سال تک آلات کا اپ ڈیٹڈ ریکارڈ رکھیں اور جب بھی پی ٹی اے مطلوبہ معلومات مانگے، فراہم کریں۔
پی ٹی اے کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مہم چلانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے تاکہ نئے قواعد کے نفاذ کی حمایت ممکن بنائی جا سکے۔



