پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جھنگ کے نوجوان تیز گیند باز قیوم خان کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) لاہور میں تربیت کے لیے منتخب کیا ہے پی سی بی کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ قیوم کی رفتار مستقل طور پر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب پہنچتی ہے۔ قیوم اِسوقت 24 اگست تا 28 اگست جاری پانچ روزہ ڈویلپمنٹ کیمپ میں شمولیت کر رہے ہیں۔
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک بار پھر ملک میں تیز گیند بازی کی نئی صلاحیت سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے جھنگ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان پسرائی قیوم خان کو نمایاں کیا ہے۔ قیوم اس وقت نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) لاہور میں جاری پانچ روزہ ڈویلپمنٹ کیمپ میں شامل ہیں جہاں انہیں مخصوص تربیتی پروگرام کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔
پی سی بی کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ قیوم کی را خام رفتار قابلِ توجہ ہے اور وہ باقاعدگی سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گیند پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور بعض اوقات اس حد سے بھی اوپر جا سکتے ہیں۔ عاقب نے بتایا کہ بورڈ ان کی ترقی کے لیے مخصوص تکنیکی اور فزیکل تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ انہیں اعلیٰ سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
قیوم نے وزیراعظم ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے منظرِ عام پر آکر بعد ازاں صدر ٹرافی گریڈ ٹو سلور مقابلوں میں سپورٹس بورڈ پنجاب کی نمائندگی بھی کی۔ پی سی بی نے انہیں این سی اے میں طلب کیا جہاں مجموعی طور پر 12 تیز گیند باز شامل ہیں، جن میں بین الاقوامی تجربہ رکھنے والے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی دونوں شامل ہیں۔ ان 12 میں سے 7 کھلاڑی ابھی تک بین الاقوامی سطح پر بے تجربہ ہیں۔
کیمپ میں کھلاڑیوں کی تکنیکی اور حکمتِ عملی پر توجہ دی جا رہی ہے جبکہ کوچز ان کی تازہ کارکردگی کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ پاکستان کی وائٹ بال فاسٹ باؤلنگ کے کوچ ایشلے نوفکی بھی اس مخصوص تربیتی پروگرام میں شامل ہیں اور وہ تیز گیند بازوں کی بیٹنگ کروت اور رفتار دونوں پہ کام کر رہے ہیں۔
پی سی بی کی حکمتِ عملی ہے کہ آئندہ سیزنز میں تین سے چار ایسے فاسٹ باؤلرز تیار کیے جائیں جو باقاعدگی سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رفتار حاصل کر سکیں، تاکہ ملکی رفتار کے وسائل کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
قیوم کے علاوہ علی رضا، رضااللہ، عبدالسبحان اور ابوزر جیسے نوجوان بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر کی رفتار دکھا چکے ہیں، جو پی سی بی کے فاسٹ باؤلنگ پول کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پی سی بی کا ماننا ہے کہ این سی اے کی تربیت انہیں ڈومیسٹک کرکٹ اور بالآخر قومی ٹیم کی دہلیز تک پہنچنے کا حقیقی راستہ فراہم کرے گی۔




