پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی وسائل (پی سی آر ڈبلیو آر) نے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی معیارِ جانچ میں 230 میں سے 201 بوتل بند اور معدنی پانی کی برانڈز کو مجموعی طور پر محفوظ قرار دیا، جب کہ 29 برانڈز غیر محفوظ قرار پائیں۔
اسلام آباد — پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی وسائل (پی سی آر ڈبلیو آر) نے اپنی تازہ سہ ماہی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اپریل تا جون 2026 کے دوران 20 شہروں سے جمع کیے گئے 230 بوتل بند پانی کے نمونوں میں سے 201 کو مجموعی طور پر محفوظ قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 220 برانڈز کیمیاوی اعتبار سے محفوظ پائیں جبکہ 208 برانڈز مائیکرو بائیولوجیکل (حیاتیاتی) طور پر محفوظ قرار پائے۔ پی سی آر ڈبلیو آر نے کہا ہے کہ 29 برانڈز کی درجہ بندی غیر محفوظ میں ہوئی۔
نمونے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ڈیرہ غازی خان، ملتان، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد، ٹنڈو جام، گوجرانوالا، بدین، سیالکوٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، کراچی، لاہور، میانوالی، مظفرآباد، گلگت اور سکھر کے مارکیٹوں سے جمع کیے گئے۔ کونسل نے ہر برانڈ کے چار بوتلیں اکٹھی کیں اور کیمیائی اور مائیکرو بائیولوجیکل جانچ کے لیے علیحدہ نمونے استعمال کیے۔
رپورٹ میں شامل تفصیلی جانچ جدول میں ہر برانڈ کی کیمیائی اور حیاتیاتی جانچ کی درجہ بندی درج ہے اور 201 اندراجات وہ ہیں جو دونوں قسم کی جانچ میں محفوظ قرار پائی۔
پی سی آر ڈبلیو آر نے اس رپورٹ کے ذریعے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف تسلیم شدہ اور معیار کے مطابق برانڈز استعمال کریں، تاہم رپورٹ میں مخصوص غیر محفوظ برانڈز کی فہرست اور اضافی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے نتائج مارکیٹنگ، ریٹیل اور صارفین کے لیے معیارِ پانی کی نگرانی اور معیارات کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ باقاعدہ جانچ اور شفاف نتائج صارفین کے تحفظ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔




