لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت غیرمعمولی عالمی تیل بحران کے دوران پٹرولیم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم لیوی کو غیر ٹیکس محصول سمجھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی پیٹرولیم ڈویژن کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بریف کیا اور کہا کہ بین الاقوامی پیٹرولیم مارکیٹ تیل، ریفائنڈ مصنوعات، شپنگ، انشورنس اور ریفائننگ صلاحیت کے مسائل سے دوچار ہے۔
کمیٹی کی صدارت رکنِ اسمبلی سید مصطفیٰ محمود نے کی۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ زیادہ شپنگ اور انشورنس اخراجات، طویل ٹرانسپورٹ راستے اور بلند ریفائننگ مارجن نے بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی لاگت بہت بڑھا دی ہے۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پیٹرولیم لیوی کو کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں سے علیحدہ کرتے ہوئے غیر ٹیکس محصول کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ یہ لیوی پیٹرولیم قیمتوں کا ایک اہم جزو ہے اور ابتدا میں اسے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو جذب کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا مگر بعد ازاں یہ باقاعدہ حکومتی آمدنی کا ذریعہ بن گیا۔
کمیٹی کے چیئرمین نے اراکین کے لیے اس لیوی کی بنیاد اور جواز پر سوال اٹھانے کا اختیار واضح کیا اور صارفین پر اس کے اثرات کے بارے میں زیادہ شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک سوال کے جواب میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ موجودہ پیٹرولیم قیمتوں کا میکانزم ایک شفاف فارمولا پر مبنی ہے جو اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔
ذرائع نے کہا کہ حکومت عالمی تیل کے صدمے کے منفی اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر کمیٹی کی طرف سے لیوی کے مستقل استعمال اور اس کے صارفین پر اثرات سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔




