پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پرائیویٹائزیشن کے بعد اپنی پہلی میٹنگ میں دو طیارے فوری طور پر ویٹ لیز پر شامل کرنے کی منظوری دے دی؛ یہ طیارے اکتوبر میں بیڑے میں شامل ہوں گے اور ابتدائی طور پر چھ ماہ کے ویٹ لیز معاہدوں کے تحت یورپ کے آپریشنز کے لیے استعمال ہوں گے۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے اپنی پہلی بورڈ میٹنگ کے دوران دو طیارے ویٹ لیز پر فوری شمولیت کی منظوری دی، جو پرائیویٹائزیشن کے بعد ایئر لائن کی جانب سے بیڑے میں بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں طیارے اکتوبر میں پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ہوں گے اور ابتدائی طور پر چھ ماہ کے ویٹ لیز معاہدوں کے تحت چلیں گے۔ ویٹ لیز میں لیزنگ کمپنی طیارہ کے علاوہ پائلٹس اور کیبن عملہ بھی فراہم کرتی ہے، جس سے ایئر لائن کو فوری آپریشنل تقویت مل سکے گی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ان طیاروں کو بنیادی طور پر یورپی فلائٹس کے آپریشن کے لیے رکھا جائے گا، اور ان کے شامل ہونے سے پی آئی اے کی آپریشنل صلاحیت اور ریونیو میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی آپریشنز کی سپورٹ اور بیڑے کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذمہ داران نے واضح کیا ہے کہ یہ دو طیارے بوئنگ کے ممکنہ 16 طیاروں کی خریداری سے متعلق پی آئی اے اور بوئنگ کے درمیان جاری گفت و شنید سے الگ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے حکام گذشتہ ماہ بوئنگ کے ہیڈ کوارٹرز، امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں جہاں وہ اس مجوزہ حصول پر بات چیت کر رہے تھے۔
ایئر لائن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلان یا باضابطہ تفصیلات میں طیاروں کی اقسام، لیزنگ کمپنی کے نام یا معاہدوں کی مالی شرائط کا تذکرہ شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم بورڈ کی منظوری اور اکتوبر میں شمولیت کے شیڈول نے واضح اشارہ دیا ہے کہ پی آئی اے جلد اپنی بین الاقوامی روٹس خصوصاً یورپ لائنز کی برقراری اور وسعت کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔
ماخذ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ویٹ لیز معاہدے عموماً وقتی ضروریات پوری کرنے اور عملے سمیت طیارہ فراہم کرنے کی وجہ سے ہوائی کمپنیوں کو فوری ریلیف فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر جب طویل مدتی خریداری کے مذاکرات جاری ہوں۔




