لاہور کی 27 کلومیٹر گججوماتا-شاہدرہ روٹ پر چلنے والی نجی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 11 اگست سے میٹرو بس سروس معطل کر دے گی، کیونکہ پی ایم اے کے ساتھ ایندھن قیمتوں اور مالی معاملات پر تنازع برقرار ہے؛ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مالی وسائل ختم کر چکی ہے اور 29 جولائی کے عدالت کے حکم کے مطابق پی ایم اے ایندھن نہ دینے تک خدمات بند رہیں گی۔
لاہور کی 27 کلومیٹر گججوماتا-شاہدرہ روٹ پر چلنے والی نجی کمپنی نے پی ایم اے کے ساتھ ایندھن اور مالی مسائل کے حل میں ناکامی کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ 11 اگست سے میٹرو بس آپریشنز معطل کر دے گی۔ کمپنی نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMA) کو ایک حتمی نوٹس جاری کیا اور کہا کہ اس کے مالی وسائل ختم ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت تک سروس جاری نہیں رکھ سکتی جب تک پی ایم اے عدالت کے 29 جولائی کے حکم کے مطابق اپنا ایندھن فراہم نہیں کرتا۔
کمپنی نے میڈیا کو بتایا کہ 6 اگست کو پی ایم اے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کوئی حل نہیں نکلا، اس لیے سروس تب تک بند رہے گی جب تک پی ایم اے فوری طور پر عدالت کے حکم پر عمل نہیں کرتا۔ ایک سینئر کمپنی اہلکار نے کہا کہ ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے چلانے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے اور موجودہ ایندھن ری ایمبرسمنٹ فارمولا کمپنی کے مکمل ایندھن اخراجات کو پورا نہیں کرتا، جس کی وجہ سے کمپنی نے اپنے فنڈز اور قرض کے ذریعے فرق پورا کرنا شروع کر دیا تھا۔
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی اس تنازع کی تصدیق کی اور بتایا کہ اتھارٹی نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے معاہدے کی شق کے تحت ثالثوں کی تقرری کا اختیار استعمال کرے گا تاکہ اختلافات حل کیے جا سکیں۔ اس عہدیدار نے اعتراف کیا کہ پی ایم اے حکومت کی منظوری کے بغیر ایندھن فراہم نہیں کر سکتی۔
پی ایم اے نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر نجی کمپنی نے 11 اگست کو خدمات روک دیں تو اتھارٹی نے موجودہ نظام سے بیرونی ذرائع سے کچھ بسیں منظم کر رکھی ہیں تاکہ سروس کو ممکنہ حد تک برقرار رکھا جا سکے۔
اس تنازع کے بعد روزانہ مسافروں اور شہروں کے معمولات پر ممکنہ اثرات سے متعلق فیصلے اور مذاکرات کا مستقبل عبوری طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔




