پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ نرسنگ ہاسٹل کی لابی میں 6 جولائی کی شب تقریباً 3 بجے آگ لگی تھی جبکہ کمیٹی نے ہاسٹل میں حفاظتی و انتظامی خرابیاں سامنے آئی ہیں۔
پِمز کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نرسنگ ہاسٹل کے ریسپشن ایریا میں 6 جولائی کی شب تقریباً 3 بجے آگ بھڑک اٹھی تھیس جس سے لابی میں رکھے تین صوفہ سیٹ جل گئے تھے تاہم ہاسٹل میں موجود 78 طالبات محفوظ رہیں۔
انکوائری کمیٹی نے واقعے کی جانچ کے بعد رپورٹ میں چند سنجیدہ حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی۔ کمیٹی نے ہاسٹل وارڈن زینب سحر پر مناسب ریکارڈ نہ رکھنے اور معیاری طریقہ کار پر عمل نہ کرنے کے الزامات لگائے۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈیوٹی کے اوقات میں سکیورٹی گارڈز واجد محمود اور شوکت محمود اپنی پوزیشنوں پر موجود نہیں تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہاسٹل میں مرد رہائش پذیر پائے گئے جبکہ ہنگامی منصوبہ، فائر الارم اور سی سی ٹی وی کیمروں جیسے بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔ مزید براں، اصل آگ لگنے کی وجہ طے نہیں کی جا سکی کیونکہ کوئی فارنزک رپورٹس دستیاب نہیں تھیں۔
کمیٹی نے ہاسٹل وارڈن اور سکیورٹی عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی تھی۔ اگرچہ فائر انکوائری کے بعد نچلے درجے کے ملازمین کو معطل کیا گیا تاہم کمیٹی کی باقی سفارشات عمل میں لائی ہی نہیں گئیں۔
رپورٹ کے یہ انکشافات ہاسٹل کے حفاظتی معیار اور انتظامی جوابدہی پر نئے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔




