آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے شعبۂ امراضِ نسواں و زچہ و بچہ کے سربراہ ڈاکٹر دانش صدیقی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پلیسینٹا ماں اور بچے کے درمیان قدرتی فلٹر کا کام دیتا ہے اور ماں کی رضامندی کے بعد اس کے گرد موجود بعض خلیوں کو مخصوص لیبارٹریوں میں سکریننگ کے بعد کاسمیٹکس اور جمالیاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ وضاحت پاکستانی میڈیا میں پلیسینٹا سے متعلق سمگلنگ کے حالیہ مباحثے کے بعد سامنے آئی۔
ڈاکٹر دانش صدیقی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پلیسینٹا کی ساخت، اس کا دورانِ حمل کردار اور جن پیچیدگیوں سے ماں اور بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے، تفصیل سے بیان کی۔ ان کے بقول ’ماں اور بچے کی نشوونما حمل کے دوران ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے۔‘ وہ واضح کرتے ہیں کہ ’ماں اور بچے کا خون براہِ راست آپس میں نہیں ملتا، اس لیے پلیسینٹا ایک قدرتی فلٹر کا کام کرتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ بچوں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر غیر ضروری یا مضر مادے اسی کے ذریعے ماں کے خون میں منتقل ہو کر خارج ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر دانش نے کہا کہ حمل میں آنول نال کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور حمل کے کچھ ہی دنوں بعد فرٹیلائزڈ انڈہ بچہ دانی کی اندرونی تہہ میں چپک کر نشوونما شروع کرتا ہے اور اسی عمل کے دوران پلیسینٹا کی تشکیل بھی شروع ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق پلیسینٹا نو ماہ مکمل ہونے تک عموماً آٹھ سے 10 انچ کے قطر تک بڑھ جاتا ہے اور عام طور پر بچے کی پیدائش کے چند منٹ بعد رحم سے الگ ہو کر خارج ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر بچہ دانی میں پرانا داغ ہو یا پہلے سی سیکشن ہو چکا ہو تو بعض اوقات پلیسینٹا مکمل طور پر خارج نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ خارج ہونے کے بعد اسے چیک کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ رحم میں کوئی حصہ باقی نہ رہ گیا ہو اور بعض اوقات اسے پیتھالوجی لیبارٹری بھی بھیجا جاتا ہے۔ اگر ضرورت نہ ہو تو اسے طبی فضلے کے طور پر تلف کیا جاتا ہے: ’طبی اصولوں کے مطابق بائیو ہیزرڈ کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مخصوص کنٹینرز یا بیگز میں رکھ کر بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کے قواعد کے مطابق تلف کیا جاتا ہے۔’ پلیسینٹا کے اطراف موجود ’جیلی نما باریک تہہ‘ کے خلیوں میں کولیجن، گروتھ فیکٹرز اور پیپٹائیڈز پائے جاتے ہیں جنہیں ماں کی رضامندی کی صورت میں مخصوص لیبارٹریوں کو عطیہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر دانش کے الفاظ میں، ’آنول نال کے اردگرد موجود بعض خلیوں میں کولیجن اور پروٹین بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ان میں گروتھ فیکٹرز اور پیپٹائیڈز بھی پائے جاتے ہیں۔ ماں کی رضامندی کی صورت میں ایسے پلیسینٹا مخصوص لیبارٹریوں کو عطیہ کیے جاتے ہیں، جہاں ان خلیوں کو الگ کر کے ہیپاٹائٹس اور دیگر انفیکشنز کی سکریننگ کی جاتی ہے۔ بعد ازاں ان خلیوں کو کاسمیٹکس اور جمالیاتی مقاصد کے لیے، مثلاً جلد کی خوبصورتی اور بالوں کی نشوونما میں استعمال کیا جاتا ہے۔’ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ عمل ہر جگہ عام نہیں اور صرف اُن لیبارٹریوں میں ممکن ہے جہاں ایسے خلیے نکالنے اور ان پر محفوظ طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔




