بیرسٹر افتخار علی گیلانی کی نامزدگی پر ن لیگ میں اختلاف کیوں؟ کون وزیراعظم آزاد کشمیر بننا چاہتا ہے؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزیرِاعظم نامزد کیا، جس پر شاہ غلام قادر اور دیگر رہنماؤں کی ناراضگی اور سوشل میڈیا تنقید کے باعث جماعت میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر کے لیے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے، جس پر جماعت کے اندر اور سوشل میڈیا پر شدید اختلافات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں؛ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے یہ نامزدگی کی ہے اور قانون ساز اسمبلی میں وزیرِاعظم کے انتخاب کے اجلاس کے شیڈول کے بارے میں تنازع جاری ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس نامزدگی کا اعلان جماعت کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایکس پر کیا۔

ن لیگ کے ایک اعلیٰ اجلاس میں، جس کی صدارت پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کی، بیرسٹر افتخار گیلانی اور شاہ غلام قادر کے ناموں پر غور کیا گیا تھا اور فیصلہ سازی کا اختیار جماعت کے صدر نواز شریف کو سونپا گیا جس کے بعد نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کیا۔

اس فیصلے پر جماعت کے اندر مظاہر ہونے والی ناراضگی خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کی طرف سے سامنے آئی، جن کے بقول ان کا خیال تھا کہ انہیں ہی وزیرِاعظم نامزد کیا جانا چاہیے تھا۔ سابق وزیرِاعظم خواجہ فاروق حیدر بھی اس فیصلے سے خوش نہیں بتائے گئے اور مبصرین کے مطابق وہ اسلام آباد میں مشاورت میں مصروف ہیں۔

انتخابی پس منظر بھی تنازع کی وجہ بنا ہے: بیرسٹر افتخار گیلانی نے حالیہ عام انتخابات میں اپنی براہِ راست نشست ہاری تھی اور انہیں اسمبلی میں ٹیکنوکریٹ مخصوص نشست کے ذریعے رکن بنایا گیا، جس پر سوشل میڈیا اور بعض صحافیوں نے تنقید کی ہے۔ صحافی محمد اسد چوہدری نے لکھا کہ ‘ٹیکنوکریٹ سیٹ پر آنے والے افتخار گیلانی کو وزیرِاعظم بنانا ایسے وقت میں جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔’

ن لیگ کے سینیئر نائب صدر مشتاق منہاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی ہدایت کی اور اسی وجہ سے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ایک دن تاخیر سے بلایا گیا؛ اب اجلاس 28 اگست کو ہوگا جس میں وزیرِاعظم کا انتخاب متوقع ہے۔ یہ اعداد و شمار جماعت کی اندرونی مشاورت کے سبب سامنے آئے۔

تجزیہ کار عامر محبوب نے کہا کہ اختلافات کے باوجود ن لیگ کو خطرہ نہیں کیونکہ قانون ساز اسمبلی میں ان کے پاس 32 نشستیں ہیں جبکہ وزیرِاعظم کے لیے 27 ووٹ درکار ہیں۔ عامر محبوب کے مطابق شاہ غلام قادر اور خواجہ فاروق حیدر ممکنہ طور پر 28 اگست کے اجلاس میں حصہ نہیں لیں گے، تاہم جماعت کی اکثریت برقرار ہے۔

بی بی سی نے شاہ غلام قادر اور خواجہ فاروق حیدر سے مؤقف جاننے کی متعدد کوششیں کیں مگر وہ رابطہ نہیں ہو سکے۔ سوشل میڈیا پر اس نامزدگی کے خلاف ردِعمل اور جماعت کے اندر اختلافات آئندہ دنوں میں ن لیگ کی اندرونی سیاسی حکمتِ عملی اور کشمیر کی حکومت سازی پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515