نیپال اور تبت میں مزید سیلابی ریلوں کے خطرات، جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ بڑھ گیا

نیپال اور چین نے ہمالیائی سرحدی علاقے میں دو جھیلوں کے پھٹنے کی وارننگ جاری کی؛ حکام نے دریا کنارے مقیم لوگوں اور امدادی کارکنوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی۔

نیپال اور چین نے ہمالیائی سرحدی علاقے میں دو جھیلوں کے پھٹنے کی وارننگ جاری کی ہے جس کے نتیجے میں اضافی سیلابی خطرات لاحق ہیں۔ حکام نے دریا کنارے مقیم لوگوں، سیاحوں اور امدادی کارکنوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

نیپال کی قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ دریا کا راستہ سیلابی ملبے سے بند ہونے کے باعث ایک جھیل میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بند کے ٹوٹنے کا واضح خدشہ موجود ہے۔ حکام نے مقامی رہائشیوں، سیاحوں اور امدادی ٹیموں کو دریا کے کنارے سے دور بلند علاقوں تک منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

چین نے بھی باقاعدہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ تین روز کے دوران تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی سرحدی علاقے میں قائم ایک جھیل میں داخل ہو سکتا ہے جس سے اِس کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ چینی وزارت آبی وسائل کے ماہر ژو جن فینگ نے بتایا کہ جھیل میں پانی کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے اور اِس کے ساتھ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ چینی میڈیا کے مطابق آنے والی بارشیں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں، اور حکام نے ممکنہ بڑھوتری کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

بدھ تک ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے حالیہ سیلابات سے غیر ملکیوں سمیت کم از کم سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے حکام کا ماننا ہے کہ یہ آفت ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے ہونے کے نتیجے میں ہوئی جس سے پتھر، برف، کیچڑ اور دیگر ملبہ دریائی نظام میں بہہ کر تباہی کا سبب بنا۔

ان انتباہات کے بعد نیپال میں بعض امدادی کارکنوں نے احتیاطاً اپنی سرگرمیاں روک کر دریا کے کناروں سے بلند مقامات کی جانب منتقل ہونا شروع کر دیا ہے۔ دونوں جانب کے حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور خطرناک علاقوں میں غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کریں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527