خیبرپختونخوا میں دہشت گردی تین ماہ میں ختم نہیں ہو سکتی، پی پی پی

پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 13 سال سے جاری دہشت گردی اور انتظامی مسائل صرف تین ماہ میں حل نہیں ہو سکتے اور صوبائی حکومت پولیس کو درکار وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

(سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مؤثر اقدامات اور قومی اداروں کے ساتھ تعاون ضروری ہے اور یہ مسائل “13 سال” سے جاری ہیں جنہیں “تین ماہ” میں حل نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی ختم کرنے کے لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں، حقیقی حل کے لیے مؤثر عملی اقدامات اور وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون درکار ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ یہ مسائل گزشتہ 13 سال سے چلے آرہے ہیں اور انہیں تین ماہ میں ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبائی حکومت پولیس کو درکار وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے انسدادِ دہشت گردی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ پی پی پی نے خبردار کیا کہ گورنر راج یا فوری اختیارات کے نفاذ جیسی جز وقتی اور سیاسی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مکمل منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تعاون لازم ہے۔

پارٹی نے زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مناسب مالی و تکنیکی وسائل اور انتظامی حمایت دی جائے تاکہ وہ دیرپا نتائج دے سکیں۔ پی پی پی کے بیان نے واضح کیا کہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی اور بدامنی کے جڑواں مسائل کا پائیدار خاتمہ ممکن ہو سکے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2755