سندھ کی تقسیم قابل قبول نہیں، نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی دو تہائی اکثریت ضروری، پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم قابل قبول نہیں اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کے مطابق دو تہائی اکثریت ضروری ہے، مذاکرات کے باوجود خیبرپختونخوا کے معاملات پیچیدہ رہے۔

(سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کے مطابق دو تہائی اکثریت درکار ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کو وہ کبھی قبول نہیں کرے گی اور آئینی طریقہ کار کے بغیر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت نہیں کر سکتی۔ پارٹی نے زور دیا ہے کہ آئین کے مطابق نئے صوبے بنانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

پی پی پی نے اپنے بیانیے میں یہ بھی کہا کہ گورنر راج اور خیبرپختونخوا کے معاملات پر پیپلز پارٹی نے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، مگر دہشت گردی اور صوبائی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔

پارٹی نے اس موقع پر مشاورتی کونسل اور سیاسی رہنماؤں کے سامنے اپنے مؤقف کی تفصیلات پیش کیں اور آئینی عمل کی پیروی پر زور دیا۔ پی پی پی کے بیانات میں حد سے تجاوز کرنے یا غیر آئینی طریقوں سے کسی صوبے کی تشکیل کو مسترد کیا گیا ہے۔

ابھی تک اس معاملے پر کسی اور جماعت یا سرکاری ادارے کی جانب سے تازہ پیش رفت کے حوالے سے معلومات شائع نہیں ہوئیں۔ پی پی پی کا موقف سیاسی اور آئینی دائرے میں رہ کر حل تلاش کرنے پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2755