قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کل 22,000 میڈیکل کالج کی نشستیں ہیں جن میں 65% نجی اور 35% سرکاری ہیں؛ وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نجی کالج سالانہ زیادہ سے زیادہ 2.1 ملین روپے فیس وصول کر سکتے ہیں اور خود سرانہ اضافہ نہیں کر سکتے۔
قومی اسمبلی میں وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ملک میں میڈیکل کالج کی کل 22,000 نشستوں میں اکثریت نجی اداروں کے پاس ہے جبکہ 35% نشستیں سرکاری کالجوں میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی میڈیکل کالج سالانہ فیس بطورِ حد زیادہ سے زیادہ 2.1 ملین روپے وصول کر سکتے ہیں اور وہ اپنی صوابدید سے فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ پہلے حکومت نے فیس کی حد 1.8 ملین روپے مقرر کی تھی، تاہم 61 میڈیکل کالجز نے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کیں۔ متعلقہ کمیٹی نے ان اپیلوں کا جائزہ لینے کے بعد 35 اداروں کو اُن کی سہولتوں اور اخراجات کی بنیاد پر 2.1 ملین روپے تک فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی۔
پارلیمانی سیکریٹری نیلسن عظیم نے بتایا کہ حکومت نے طلبہ اور والدین کے لیے ایک شکایت پورٹل بھی قائم کر دیا ہے تاکہ فیسوں کے جواز اور دیگر مسائل کی رپورٹنگ ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام نے 45 اداروں کو نوٹسز جاری کیے ہیں اور جو کالجز فیسوں کا مناسب جواز پیش کرنے یا ٹیکس تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ملک میں میڈیکل تعلیم کے محدود نشستوں نے بہت سے طالب علموں کو بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ہے، اور اس پر سالانہ اندازاً 800 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ حکومت نے نئے نجی میڈیکل کالجوں کے قیام پر تین سالہ پابندی عائد کر رکھی ہے، جب کہ سرکاری ادارے اپنے انفراسٹرکچر کو بڑھا کر نشستیں بڑھا رہے ہیں۔
وزارتِ صحت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا مقصد فیسوں میں بے ضابطگی روکنا، طلبہ کے شکایات کے ازالے کے لیے شفافیت لانا اور بیرونِ ملک طلبہ کے اخراجات کو کم کر کے ملکی میڈیکل تعلیم کی گنجائش بڑھانا بتایا گیا ہے۔




